خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 263

* 1942 263 خطبات محمود ڈرتی ہیں اور اپنے بچوں کی جانوں کی حفاظت کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے بچے دوسرے ذرائع سے ان کے سامنے مار ڈالتا ہے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں خصوصاً ان اضلاع کی جماعتوں کو جن کا ناظر صاحب امور عامہ دورہ کر رہے ہیں کہ وہ ہمت اور کوشش کر کے نوجوانوں کو بھرتی کرائیں اور انہیں اس دن کے لئے تیار کریں جس دن احمدیت ان سے قربانی کا مطالبہ کرے گی۔اگر آج وہ تیار نہیں ہوں گے تو وہ وقت پر کچے دھاگے ثابت ہوں گے اور اسلام اور احمدیت کے لئے قربانی نہیں کر سکیں گے۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ اگر فوج میں بھرتی ہوئے تو جرمنوں کے ہاتھوں مارے جائیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ فوج میں بھرتی نہ ہوئے تو کیا جر من اسی جگہ نہیں آجائیں گے۔اس صورت میں تو وہ اسی جگہ جرمنوں کے ہاتھوں مارے جائیں گے اور یہ ایک ذلت کی موت ہو گی جس سے انہیں بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر میں کہتا ہوں مومن تو وہ ہوتا ہے جو سوائے خدا کے کسی سے ڈرتا ہی نہیں۔آج وہ جرمن سے ڈر گئے ہیں، کل جاپان سے ڈر جائیں گے ، پرسوں کسی اور قوم سے خوف کھاتے پھریں گے۔پھر وہ فتح کس پر حاصل کریں گے حالانکہ مومن تو وہ ہوتا ہے جو کسی کی پرواہ ہی نہیں کرتا اور وہ سمجھتا ہے کہ میرے مقابلہ میں کوئی دشمن نہیں ٹھہر سکتا۔جس مومن کے دل میں یہ یقین پیدا ہو جاتا ہے وہ مقابلہ کے وقت سب پر بھاری ہوتا ہے۔ہم نے ایک دفعہ بچپن میں دیکھا کہ ایک جگہ کچھ احمدی مزدور کام کر رہے تھے کہ دس پندرہ سکھ ہاتھوں میں ڈنڈے اور لاٹھیاں لئے ہوئے ان پر حملہ کرنے کے لئے آگئے۔ایک مخلص احمدی اکیلا ہی ان سکھوں کے پیچھے دوڑ پڑا۔بعض نے کہا بھی کہ آپ اکیلے ہیں نہ جائیں مگر اس نے کہا کہ کوئی پرواہ نہیں اور اس ایک احمدی کے مقابلہ میں وہ دس پندرہ سکھ اس طرح بھاگ کھڑے ہوئے کہ ہم چھوٹے چھوٹے بچے بے اختیار ہنسنے لگ گئے۔اسی طرح یہاں ایک دفعہ ایک زمین کا معاملہ تھا وہ قانوناً ہماری تھی مگر بعض سکھ کہہ رہے تھے کہ ہماری ہے۔میر امختار میرے پاس آیا اور اس نے مجھے حالات سے اطلاع دی۔میں نے اسے کہا کہ بعض آدمی اپنے ساتھ لے جاؤ اور زمین میں ہل چلا دو۔اگر وہ مقدمہ کرنا چاہتے ہیں تو بے شک مقدمہ کر