خطبات محمود (جلد 23) — Page 211
* 1942 211 خطبات محمود اختیار نہیں کرتے یا چینیوں کا لباس کیوں نہیں پہنتے یا جاویوں کے لباس کو اپنا لباس نہیں بنا لیتے یا افریقہ کے لوگوں کے لباس کو اپنے لباس پر کیوں ترجیح نہیں دیتے۔اسی وجہ سے کہ ان پر ان کے تمدن کا اثر نہیں ہوتا۔یہ نہیں کہ ان کا لباس یورپین لوگوں سے کسی دلیل کی رو سے ادنیٰ ہوتا ہے بلکہ اس کی وجہ صرف یہی ہوتی ہے کہ تمدنی لحاظ سے چینیوں یا جاویوں یا افریقی لوگوں کے لباس کو اختیار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔پس جو لوگ انگریزی لباس کی نقل کرتے ہیں وہ انگریزی لباس کی کسی خوبی کی وجہ سے اس کی نقل نہیں کرتے بلکہ اس لئے کرتے ہیں کہ انگریز حاکم ہیں اور وہ ہندوستانی بندر کی طرح ان کے نقال بننا چاہتے ہیں۔انگریز تو اس بات پر مجبور ہیں کہ وہ خواہ ہندوستان میں رہیں اپنے قومی لباس کو ترک نہ کریں مگر جو ہندوستانی ان کے لباس کی نقل کرتا ہے وہ ضرور نقال ہوتا ہے۔پھر بھی جہاں تک ایسے احکام کا تعلق ہے جن میں ہماری شریعت روک نہیں بنتی ہم کہہ سکتے ہیں کہ چلو اگر کسی نے ایسی بات نقل کر لی ہے تو کیا ہوا۔مثلاً اگر کسی ہندوستانی کو انگریزوں سے مل کر رہنا پڑتا ہے اور وہ اکثر انہی کی سوسائٹی میں رہتا ہے تو وہ اگر انگریزوں کا لباس پہن لیتا ہے تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ مجبور ہے اس کا زیادہ تر تعلق چونکہ ہندوستانیوں کی بجائے انگریزوں سے ہے اور انگریزوں کے ہاں اس کا آنا جانا اکثر رہتا ہے۔اس لئے اگر اس نے انگریزوں کا لباس اختیار کر لیا ہے تو یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں۔ہماری شریعت نے اس سے منع نہیں کیا گو بعض لوگ اس قسم کے بھی ہوتے ہیں جن کا انگریزوں سے اس قسم کا کوئی تعلق نہیں ہوتا اور پھر بھی وہ انگریزی لباس پہنے پھرتے ہیں۔یہیں قریب کے ایک گاؤں کا ایک نیم پاگل لڑکا ہے جو ہمیشہ کوٹ پتلون پہنتا ہے۔اس کے سارے رشتہ دار دھوتی اور لنگوٹی باندھے پھرتے ہیں مگر اُسے کوٹ پتلون کے بغیر کوئی لباس پسند ہی نہیں آتا۔مجھے ہمیشہ اسے دیکھ کر ہنسی آتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہی بندروں والی نقل ہے۔اگر کسی کو ہمیشہ انگریزوں سے مل کر رہنا پڑتا ہے تو اُن کے احساسات اور جذبات کا خیال رکھنے کے لئے اگر وہ انگریزی لباس پہن لیتا ہے تو یہ اور بات ہے مگر دوسرے لوگ جو انگریزی لباس پہنے کے عادی نہیں ان کا انگریزی لباس پہننا محض ایک نقل ہوتی ہے اور وہ دوسرے لباسوں کو اس لئے اختیار نہیں کرتے کہ ان کے دل پر انگریزی لباس کا ہی رعب ہوتا ہے