خطبات محمود (جلد 23) — Page 212
* 1942 212 خطبات محمود اور لباسوں کا رعب نہیں ہو تا۔بلکہ اگر کسی اور لباس کی وہ کسی اور کو نقل کرتے دیکھیں تو شاید وہ خود بھی اس پر ہنسنے لگ جائیں۔مجھے ہمیشہ ایک لطیفہ یاد رہتا ہے جو میں پہلے بھی بعض دوستوں کو سنا چکا ہوں کہ 1918ء میں جب انفلوئنزا کا شدید حملہ ہوا تو مجھ پر بھی اس کا شدت سے حملہ ہوا اور کئی سال تک میری طبیعت کمزور رہی۔میں ایک دفعہ آب و ہوا کی تبدیلی کے لئے دریا پر گیا ہوا تھا کہ ایک دوست نے اپنے متعلق ذکر کیا کہ میں ریوڑیاں بڑی اچھی بنالیتا ہوں اور مذاق مذاق میں بعض لوگ کہہ رہے تھے کہ ریوڑیاں ان کے گھر کے لوگ اچھی بناتے ہیں یہ تو صرف دیکھنے والے ہیں۔اس پر کچھ اُن کو غیرت آئی اور کچھ لوگوں نے زور دیا آخر گڑ اور تیل منگوائے گئے اور انہیں ریوڑیاں بنانے کے لئے کہا گیا پھیر و چیچی میں ان دنوں احمد یہ سکول ہوا کرتا تھا اس کے کمروں میں ہم ٹھہرے ہوئے تھے۔ایک کمرہ میں میں لیٹا ہوا تھا اور ہمارے دوست عبد الاحد خان صاحب افغان کابلی مجھے دبا رہے تھے کہ ریوڑیاں تیار ہونے میں دیر ہو گئی اور جتنے عرصہ میں ہم سمجھتے تھے کہ ریوڑیاں تیار ہو جائیں گی اس سے کچھ زیادہ وقت ہو گیا اور آخر ہوتے ہوتے ساڑھے نو دس بجے رات کا وقت آگیا۔میں نے کہا۔میاں عبد الاحد خان جاؤ اور دیکھو کہ کیا ہوا۔اتنی دیر کیوں ہو گئی ہے۔انہوں نے آکر کہا۔کئی دوست بیٹھے ہوئے ہیں۔گاؤں کے لوگ بھی موجود ہیں مگر جو گڑ ہے وہ راب کی طرح پتلا ہو گیا ہے اور کبھی ایک کو چکھایا جاتا ہے اور کبھی دوسرے کو۔کوئی کہتا ہے یہ آدمیوں کے کھانے کے قابل نہیں رہا یہ تو گدھوں کے آگے ڈالنے کے قابل ہے اور کوئی کہتا ہے گھوڑوں کے آگے ڈال دو۔غرض اسی طرح باتیں ہو رہی ہیں یہاں تک تو انہوں نے بڑی سنجیدگی سے باتیں کیں۔اس کے بعد کہنے لگے اور درد صاحب اور یہ کہہ کر وہ بے اختیار ہو کر ہنس پڑے ان کی عادت نہیں کہ میرے سامنے اس طرح ہنسیں مگر وہ اس وقت بے اختیار ہو کر ہنس پڑے اور جیسے کہتے ہیں ہنستے ہنتے پسلیاں ٹوٹ گئیں یہی کیفیت ان کی تھی وہ ہنستے چلے جاتے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہنستے ہنستے گر جائیں گے۔آخر میں نے کہا درد صاحب کو کیا ہوا۔وہ کہنے لگے۔درد صاحب اور پھر ہنسنے لگ گئے۔میں حیران ہوا کہ آخر ہوا کیا جو ان کی ہنسی نہیں رکھتی۔میں نے کہا میاں عبد الاحد خان