خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 210

* 1942 210 خطبات محمود کہ وہ ڈر کر ہمارے ماتحت ہو گیا ہے۔پھر میں نے ان سے کہا اس لباس کی تبدیلی میں جو نفسیاتی نکتہ ہے وہ در حقیقت یہی احساس ہے جو آپ لوگوں کے دلوں میں ہوتا ہے کہ یہ ایک شکار ہے جسے ہم نے اپنے خیال کے مطابق بنا لیا ہے اور اب اس میں مقابلہ کی طاقت نہیں رہی۔اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جو لوگ دوسروں کے تمدن کو اختیار کر لیتے اور ان کی نقل کرنا شروع کر دیتے ہیں وہ انہی کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں اور خود ذمہ داری کا احساس ان کے دلوں سے جاتا رہتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہندوستانی لباس میں اگر انگلستان کے لوگوں کے سامنے کوئی شخص جاتا ہے تو وہ انہیں اچھا معلوم نہیں ہو تا مگر یہ صرف انگریزوں پر ہی منحصر نہیں ہمارے ملک میں بھی جب کوئی غیر ملکی کسی اور لباس میں آتا ہے تولوگوں کو وہ اچھا معلوم نہیں ہوتا۔انگریز چونکہ ہندوستان میں ایک عرصہ سے ہزاروں کی تعداد میں رہتے ہیں اس لئے ان کالباس ہندوستانیوں کو بُرا معلوم نہیں ہوتا۔مگر چینی چونکہ ہمارے ملک میں کم آتے ہیں اس لئے اگر کوئی چینی آجائے تو عور تیں اور بچے اپنے گھروں سے نکل نکل کر اسے تماشہ کے طور پر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ چینیوں کی اسی طرح چوٹی ہوتی ہے جس طرح عورتوں کی ہوتی ہے اور پھر ان کے پاجامے گھگھروں کی طرح ہوتے ہیں۔لوگ ان کو دیکھتے اور حیران ہوتے ہیں کہ ایک مرد نے عورت کا لباس کیوں پہن رکھا ہے۔تو صرف عادت کے نہ ہونے کی وجہ سے بعض دفعہ کوئی چیز عجیب لگتی ہے حالانکہ وہ عجیب نہیں ہوتی اور قدرتی طور پر انسان چاہتا ہے کہ دوسرا شخص میری نقل کرے حالانکہ اس قسم کی نقل عقل کے بغیر ہوتی ہے اور وہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں دے سکتا کہ دوسرا شخص کیوں پاجامہ نہ پہنے اور پتلون پہنے یا پگڑی چھوڑ دے اور ہیٹ پہننا شروع کر دے۔اگر کوئی نقل عقل کے مطابق ہو تب تو اسے درست تسلیم کیا جاسکتا ہے لیکن جو نقل عقل کے بغیر ہوتی ہے وہ ضرور انسان کو حقیر بنادیتی ہے اور گو ظاہری طور پر انسان کتنا ہی معزز ہو کر دوسروں کی سوسائٹی میں رہے مگر وہ اپنے دل میں یہ ضرور محسوس کرتے ہیں کہ یہ ایک کمزور دل کا آدمی ہے جس نے ہمارے اثر کو قبول کر لیا ہے اور لوگ دراصل انہیں کا اثر قبول کرتے ہیں جن کے تمدن کو وہ اپنے تمدن سے بہتر سمجھتے ہیں ورنہ کیا وجہ ہے کہ راشے جو سر حد سے ہمارے ملک میں آتے ہیں لوگ ان کا لباس 1