خطبات محمود (جلد 23) — Page 158
* 1942 158 خطبات محمود سر رشتہ دار تھے اور جو بعد میں احمدی بھی ہو گئے تھے ان سے جب ڈپٹی کمشنر نے اس مقدمہ کا ذکر کیا اور ان سے مشورہ لیا تو انہوں نے کہا مرزا صاحب بڑے شریف آدمی ہیں اور گورنمنٹ برطانیہ کے بہت وفادار ہیں۔مقدمہ کے بعد جو صورت ہو وہ ہو مگر مقدمہ سے پیشتر کوئی ایسی کارروائی نہیں کرنی چاہئے جس سے ان کی کسی رنگ میں ہتک ہو۔پھر انہوں نے پولیس سے مشورہ لیا تو انسپکٹر پولیس جن کا نام غالباً جلال الدین تھا انہوں نے بھی یہی مشورہ دیا۔آخر انہوں نے ایسے رنگ میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بلایا جس میں آپ کا اعزاز قائم رہتا تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام عدالت میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ڈپٹی کمشنر پر ایسا اثر کیا کہ بجائے اس کے کہ وہ آپ کو ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا کرتا اس نے کمرہ عدالت میں اپنے پاس کرسی بچھا کر آپ کو اس پر بٹھا دیا۔وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر مقدمہ دائر ہونے کی خوشی میں دوڑتے پھرتے تھے اور باوجود مسلمان ہونے کے اور باوجود اس بات کے کہ یہ مقدمہ ایک عیسائی کی طرف سے تھا اس بات پر خوش تھے کہ اب مرزا صاحب کو سزا ہو جائے گی۔انہوں نے جب عدالت میں آپ کو ڈپٹی کمشنر کے پاس کرسی پر بیٹھے دیکھا تو وہ غصہ سے جل بھن گئے۔اسی دن عیسائیوں کی طرف سے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی بطور گواہ پیش ہونے والے تھے اور وہ اس امید میں تھے کہ جب میں کمرہ عدالت میں داخل ہوں گا تو مرزا صاحب کو ہتھکڑی لگی ہوئی ہو گی اور وہ ملزموں کے کٹہرے میں نہایت ذلت کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور جب مجھے دیکھیں گے تو بہت شرمندہ ہوں گے مگر جب وہ اندر داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ ڈپٹی کمشنر کے پہلو میں کرسی بچھی ہوئی ہے اور بجائے ملزموں کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کے وہ ملزم نہایت اعزاز کے ساتھ عدالت کے پاس اس کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔یہ دیکھ کر اُن کو آگ لگ گئی۔وہ اپنی گواہی تو بھول گئے اور ڈپٹی کمشنر سے کہنے لگے۔صاحب سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے بھی عدالت میں کرسی ملنی چاہئے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا تم کو کس وجہ سے کرسی دی جائے۔تم گواہ کی حیثیت سے آئے ہو اور گواہوں کو کرسی نہیں ملا کرتی۔انہوں نے کہا میں تو گواہ ہوں جب آپ نے ملزم کو کرسی دے رکھی ہے تو مجھے کیوں کرسی نہیں مل سکتی۔مجھے بھی کرسی ملنی چاہئے۔اس پر ڈپٹی کمشنر نے کہا ہم