خطبات محمود (جلد 23) — Page 159
خطبات محمود 159 * 1942 جانتے ہیں کہ کس کا ادب اور احترام کرنا چاہئے۔مرزا صاحب کے خاندان سے ہم واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ گورنمنٹ ان کے خاندان کو کس عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی چلی آرہی ہے اس لئے انہیں جائز طور پر کرسی دی گئی ہے مگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی بد قسمتی کہ وہ پھر بھی خاموش نہ رہے اور در حقیقت جب خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی کے خلاف کوئی فیصلہ ہو جائے تو وہ ذلت سے کہاں بچ سکتا ہے۔بجائے اس کے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی خاموش رہتے ، وہ کہنے لگے۔لاٹ صاحب کے پاس میں ملنے کے لئے جاتا ہوں تو وہ مجھے کرسی دیتے ہیں۔آپ عدالت میں مجھے کیوں کرسی نہیں دیتے؟ ڈپٹی کمشنر کہنے لگا اگر ایک چوہڑا بھی ہمیں اپنے مکان پر ملنے آئے تو ہم اسے کرسی دے دیتے ہیں مگر یہ عدالت کا کمرہ ہے یہاں اسی کو کرسی ملے گی جس کی خدمات کو گورنمنٹ جانتی ہو۔اس پر انہوں نے پھر اصرار کیا اور کہا کہ مجھے ضرور کرسی ملنی چاہئے۔آخر ڈپٹی کمشنر نہایت غصے سے انہیں کہنے لگا۔بک بک مت کر پیچھے ہٹ اور جو تیوں میں کھڑا ہو جا۔غرض وہ تو یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عدالت میں نَعُوْذُ بِالله نہایت ذلت سے کھڑے ہوں اور انہیں ہتھکڑی لگی ہوئی ہو اور وہ سمجھتے تھے کہ یا تو انہیں گرفتار کر کے عدالت میں لایا جائے گا یا کم از کم ملزموں کے کٹہرے میں آپ کو ضرور کھڑا کیا جائے گا مگر انہوں نے دیکھا تو یہ کہ کمرہ عدالت میں ڈپٹی کمشنر کے پاس ملزم ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔اب یہ ایک غیر معمولی تغیر ہے جو خد اتعالیٰ نے کیا اور جس نے ڈپٹی کمشنر کے دل پر تصرف کر کے اسے ایسا سلوک کرنے پر مجبور کر دیا۔آجکل ہماری جماعت کتنی منظم اور کتنی پھیلی ہوئی ہے مگر اب بھی ہمارے ساتھ یہ سلوک نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ یہ سلوک محض الہی تصرف کا نتیجہ تھاور نہ بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعض اور عدالتوں میں پیش ہوئے ہیں اور آپ کو کھڑا رہنا پڑا ہے مگر اس وقت چونکہ مقابلہ میں ایک عیسائی دشمن تھا اور مسلمان بھی آپ کو گرانے کے لئے عیسائیوں کے ساتھ مل گئے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ دکھا دیا کہ بجائے اس کے کہ وہ آپ کو ذلت کی حالت میں دیکھتے۔انہوں نے آپ کو نہایت اعزاز کے ساتھ کمرہ عدالت میں ڈپٹی کمشنر کے پاس بیٹھے دیکھا۔