خطبات محمود (جلد 23) — Page 157
* 1942 157 خطبات محمود تعصب سے کام لیا اور جس جس مذہب کے ساتھ کوئی پولیس افسر تعلق رکھتا تھا۔اس مذہب کے افراد کو اس نے بچانے کی کوشش کی۔تو یہ تعصب دلوں سے نکل تو نہیں جاتا سوائے اس کے کہ جہاں کوئی حقیقی نقصان پہنچنے والا ہوتا ہے، وہاں اللہ تعالیٰ دلوں پر تصرف کر کے حالات کو بدل دے تو اور بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا یہ ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک پادری نے آپ پر نالش کی اور یہ نالش امر تسر میں ہوئی۔ہو سکتا تھا کہ وہ مقد مہ امر تسر میں ہی چلتا مگر وہاں سے ڈپٹی کمشنر کو خیال پیدا ہوا یا اسے گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر نے جب تعمیل کے لئے سمن گورداسپور پہنچے تو لکھا کہ امرتسر میں یہ مقدمہ نہیں ہو سکتا اور اس نے اس بات کو تسلیم کر لیا گو ہمارے وکلاء کہتے ہیں کہ یہ اس کی غلطی تھی۔یہ مقدمہ امر تسر میں بھی چل سکتا تھا مگر بہر حال یہ مقدمہ گورداسپور میں دائر ہوا۔اس وقت گورداسپور میں ایک ایسے ڈپٹی کمشنر صاحب تشریف لائے ہوئے تھے جو سخت متعصب عیسائی تھے۔اب تو وہ ہماری جماعت کے گہرے دوست ہیں اور اس نشان کا وہ ہمیشہ ذکر کیا کرتے ہیں مگر اس وقت ان کی یہ حالت تھی کہ جب وہ گورداسپور میں آئے تو انہوں نے اپنے بعض اہلکاروں سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ اس ضلع میں ایک شخص مسیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس طرح ہمارے خداوند یسوع مسیح کی ہتک کرتا ہے۔کیا اب تک اسے کسی افسر نے گرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی۔غرض اس وقت وہ سخت تعصب رکھتے تھے اور مقدمہ امر تسر سے بدل کر انہی کے پاس پہنچا۔انہوں نے مقدمہ کی اہمیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسے اپنی عدالت میں ہی رکھ دیا۔اب ایک ایسا انسان جس کے دل میں اس قسم کا تعصب ہو اس کے متعلق یہ بالکل ممکن تھا کہ ایک طرف کی باتیں اس پر اثر کر جاتیں اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف فیصلہ کر دیتا بالخصوص ایسی حالت میں جبکہ یہ مقدمہ ایک پادری کی طرف سے تھا مگر اللہ تعالیٰ کے تصرفات کو دیکھو کہ اس مقدمہ کی پیشی بٹالہ میں ہوئی اور پہلا تغیر خدا تعالیٰ نے اس رنگ میں کیا کہ باوجود اس بات کے کہ انسپکٹر پولیس غیر احمدی مسلمان تھا اور سر رشتہ دار بھی غیر احمدی مسلمان تھا اور اس وجہ سے ان سے مخالفت کا زیادہ ڈر تھا مگر وہ دونوں شریف الطبع تھے۔جو دوست اُس وقت