خطبات محمود (جلد 23) — Page 128
* 1942 128 خطبات محمود خدا تعالیٰ کے فضل سے منظم جماعت ہونے کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔یہ کوئی بہت دیر کی بات نہیں میری خلافت کے ایام کی ہی بات ہے کہ یہاں صرف ایک احمدی دکاندار سید احمد نور صاحب کابلی تھے اور وہ بھی شاکی رہتے تھے کہ ان کی دکان اچھی طرح چلتی نہیں پھر بعض وجوہ سے جو اللہ تعالیٰ نے جماعت کی ترقی کے لئے پیدا کیں اسی مسجد میں اور اسی مقام پر میں نے جماعت کا ایک جلسہ کیا اور ان مشکلات کو جو اپنے ہمسائیوں کی وجہ سے پیش آرہی تھیں دوستوں کے سامنے رکھیں اور ان کو اجازت دی کہ وہ جو فیصلہ چاہیں کر لیں۔خواہ یہ فیصلہ کرلیں کہ صرف اپنی ہی دکانوں سے سود لینا ہے دوسروں سے نہیں اور چاہے یہ کہ دوسروں سے سودا لینے میں کسی قسم کی روک نہیں ہونی چاہئے۔وہ جو بھی رائے دیں گے اسی کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ہاں یہ پابندی میں نے لگادی کہ دوست جو فیصلہ بھی کئے جانے کا مشورہ دیں گے اس پر قائم رہنے کے وہ پابند ہوں گے۔انہیں اپنے ہی کئے ہوئے فیصلہ کے خلاف چلنے کا اختیار نہ ہو گا چنانچہ تمام جماعت نے بحیثیت مجموعی اس امر کا فیصلہ کیا کہ ان حالات میں وہ یہی پسند کرتے ہیں کہ احمدی دکانداروں سے سودا لیا جائے۔سوائے چھ سات دوستوں کے جنہوں نے کہا کہ وہ ایسی پابندی کو پسند نہیں کرتے اور باوجود اس بارہ میں کثرت رائے ہونے کے کہ دوسروں سے سودانہ لیا جائے۔میں نے ان چھ سات کو یہ اجازت دے دی کہ جس سے چاہیں سو دالے لیں اور باقی سے کہہ دیا کہ چونکہ انہوں نے خود یہ فیصلہ کیا ہے۔اس لئے وہ پابند ہیں کہ آئندہ احمدی دکانداروں سے سودالیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ساٹھ ستر بلکہ قریباً ایک سو دکانیں یہاں احمدیوں کی ہیں اور ان میں سے بعض اچھی حیثیت کے ہیں۔ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ یہاں کی ساری تجارت احمدیوں کے ہاتھ میں ہے اور نہ ہی ہمارا یہ منشاء تھا بلکہ اس وقت بھی بعض ایسی صورتیں پیدا کی گئی تھیں کہ جن کے ماتحت بعض دوسرے دکاندار بھی ہمارے ساتھ مل سکتے تھے اور ان کو اس پابندی سے مستفی کیا جا سکتا تھا اور ان کے مطابق ہمیشہ بعض ہندو، سکھ اور غیر احمدی دکاندار مستثنیٰ کئے گئے اور دوستوں کو اجازت دی گئی کہ ان سے سودا لے سکتے ہیں مگر پھر بھی اس پابندی کا یہ نتیجہ ہوا کہ یہاں احمدیوں کی تجارت ایسی معقول ہے کہ سارے پنجاب میں کسی اور جگہ مسلمانوں کے ہاتھ میں اس طرح نہیں ہے۔اور اس فیصلہ کی وجہ سے