خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 129

* 1942 129 خطبات محمود کم سے کم دو ہزار مرد، عورتیں اور بچے مستفید ہو رہے ہیں اور یہ نظام کا ہی فائدہ ہے جو وہ اٹھا رہے ہیں بلکہ میر اخیال ہے کہ دو ہزار سے بھی زیادہ لوگ فائدہ اٹھارہے ہوں گے۔یہ کم سے کم اندازہ ہے جو میں نے لگایا ہے کیونکہ مزدور پیشہ اور کار یگر بھی اس معاہدہ سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔شروع میں دقتیں اور مشکلات بھی پیدا ہوئیں جماعت کے دوستوں کو قربانیاں بھی کرنی پڑیں تجارت سے ناواقف دکاندار مہنگے سودے لاتے اور مہنگے ہی فروخت کرتے۔لیکن کوئی تو اپنے شوق سے کوئی اپنے عہد کی پابندی کی وجہ سے اور کئی جو کمزور تھے۔نظام کے ڈر سے انہی سے سودا لیتے۔سالہا سال تک یہاں کے احمدیوں نے دوسروں کی نسبت گراں سودے خریدے اور اس طرح اگر جمع کیا جائے تو لاکھوں روپیہ کا نقصان انہوں نے اٹھایا اور تاجروں اور کاریگروں نے فائدہ اٹھایا۔یہ سب نظام کی وجہ سے ہی ہوا۔جماعت نے قربانی کی جنہوں نے خلاف ورزی کی ان کو نظام کے ماتحت سزائیں دی گئیں اور ان سزاؤں کا فائدہ بھی دکاندروں کو ہوا۔اگر یہاں ہمارا نظام قائم نہ ہو تا تو یہاں کے دکاندار یہ فائدہ نہ اٹھا سکتے۔اس معاہدہ کے باوجود بعض سے کمزوریاں سرزد ہوئیں اور نظام کے ماتحت ان کو پکڑا گیا اور سزائیں دی گئیں۔بعض بعد میں آنے والوں نے کہا کہ ہمیں پتہ نہ تھا تو ان کو بلایا اور سمجھایا گیا اور پھر بھی انہوں نے اصرار کیا تو ان کو سزائیں دی گئیں اور مجبور کیا گیا کہ احمدی دکانداروں سے ہی ” سودا خریدیں۔یہ نظام ہی کا فائدہ تھا جو دکانداروں نے اٹھایا۔اسی طرح نظام کے اور بھی فائدے ہیں۔کسی کی چوری ہو جائے کسی کو مارا جائے تو وہ نظام سے فائدہ اٹھاتا ہے۔لوگ اس کی مدد کے لئے آگے پیچھے دوڑتے اور ظلم کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔باہر بھی تو مسلمان رہتے ہیں مگر ان کا کوئی نگران نہیں اور کوئی ان کی تائید کرنے والا نہیں اور کوئی ان کو ظلموں سے بچانے والا نہیں۔یہ قادیان میں جماعت کی تنظیم کا ہی نتیجہ ہے کہ یہاں کے لوگ ہر قسم کے فائدے اٹھاتے ہیں مثلاً یہاں کمیٹی قائم ہے اور اس میں احمدیوں کو پورا پورا حق مل رہا ہے، باہر بھی ایسے علاقے ہیں جہاں مسلمان بڑی تعداد میں بستے ہیں۔مگر وہ اپنا پورا حق حاصل نہیں کر سکتے۔دوسرے ان کو باہم لڑا دیتے ہیں ان کا آپس میں جھگڑا کر ا دیتے ہیں ایک دوسرے کا مد مقابل بنا دیتے ہیں اور پھر خود ان کے حق پر قبضہ کر لیتے ہیں۔اس لئے یہاں کا