خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 112

1942ء 112 خطبات محمود سپاہیوں کو سونے کا موقع بھی نہیں ملتا اور یہ تجربہ ہر شخص کو ہو گا کہ اگر ایک دن بھی کسی کو نیند نہ آئے تو وہ کیسا مضمحل ہو جاتا ہے۔ پس تم سمجھ سکتے ہو کہ جب چار چار پانچ پانچ دن کسی کو سونے کا موقع نہیں ملے گا تو وہ کس طرح لڑ سکے گا۔ وہ تو خواہ کیسا بہادر ہو تلوار اور بندوق خود بخود اس کے ہاتھ سے چھوٹ جائے گی اور وہ کھڑا ہو گا تب بھی سویا ہو ا ہو گا اور بیٹھے گا تب بھی سویا ہوا ہو گا۔ تو اس زمانہ کی لڑائی متواتر جاری رہنے والی لڑائی ہے۔ اگر سپاہی زیادہ تعداد میں ہوں تو ایک حصہ لڑتا ہے اور دوسرا حصہ آرام کر لیتا ہے۔ لیکن اگر سپاہیوں کی تعداد کم ہو تو انہیں آرام کا موقع نہیں ملتا اور اس طرح باوجود دلیری سے لڑنے کے ان میں دشمن کے مقابلہ کی طاقت نہیں رہتی چنانچہ برما کی لڑائی میں باوجود اس کے کہ جو واقعات اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ ا ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے م ہوتا ہے کہ ہمارے سپاہیوں نے بہت بڑی بہادری سے کام لیا پھر بھی چونکہ ان کی تعداد کم ہے اور دشمن کی تعداد زیادہ اور اسے کمک آسانی سے پہنچ سکتی ہے۔ ہمارے سپاہی تھلتے چلے جاتے ہیں اور بعض جگہ گورنمنٹ کو خود اقرار کرنا پڑا ہے کہ صرف تھکان کی وجہ سے ہمارے سپاہی مقابلہ نہیں کر سکے۔ تو کئی کئی دن نہ سونے کی وجہ سے انسانی جسم میں طاقت ہی نہیں رہتی کہ وہ دشمن کا مقابلہ کر سکے۔ ایسی صورت میں جبکہ دشمن روزانہ بڑھ رہا ہے اور ادھر سمندر میں بھی اسے طاقت اور غلبہ حاصل ہے۔ ہمیں بہت زیادہ دعاؤں سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ابھی ہندوستان کے ملک کی وسعت اور اس کے آدمیوں کی کثرت کی وجہ سے جاپان کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ ہندوستان میں اپنی فوجیں اتارے۔ اگر کوئی چھوٹا ملک ہوتا تو وہ اب تک اپنی فوجیں اتار چکا ہوتا۔ اب وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے لاکھ دولاکھ فوج اتار بھی دی تو ہندوستان جس میں کروڑوں لوگ رہتے ہیں۔ اس میں جوش پیدا ہو جائے گا اور وہ حکومت سے تعاون کرنا شروع کر دے گا جس کے مقابلہ میں میر اٹھہر نا مشکل ہو جائے گا۔ غرض خطرہ قریب سے قریب تر آگیا ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو ہندوستان کی محافظ ہو سکتی ہے۔ میں نے بتایا تھا کہ دعا کے سوا ہمارے لئے اور کوئی چارہ نہیں اور میں نے بتایا تھا کہ دعا میں پہلی چیز اس یقین کامل کا پیدا ہونا ہے کہ اللہ تعالیٰ