خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 111

* 1942 111 خطبات محمود اس طرح ظالمانہ طور پر لوٹ رہے تھے کہ کوئی والی وارث نظر نہیں آتا تھا۔بڑے بڑے شہروں کی گلیاں اس طرح خالی پڑی تھیں جیسے قبرستان سنسان ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں بعض دفعہ ہم میلوں میل نکل گئے مگر ہمیں کوئی آدمی نظر نہیں آتا تھا اور اگر آتا تھا تو وہ ڈاکو ہو تا تھا۔چونکہ زیادہ تر ان علاقوں میں سے آنے والے مدراس اور بنگال کے لوگ ہیں۔اس لئے ان علاقوں میں رہنے والوں پر جنگ کی اہمیت اور اس کی ہولنا کی بالکل واضح ہو گئی ہے۔چنانچہ اب مدراس کی کانگرس پارٹی نے بھی زور دینا شروع کر دیا ہے کہ موجودہ جنگ میں انگریزوں کی مدد کرنی چاہئے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ان علاقوں کے رہنے والے ہزاروں ہزار لوگ جب واپس آئے تو انہوں نے اپنی آنکھوں دیکھے حالات سنائے جو نہایت ہی ہولناک تھے اور جن سے لوگوں کو متاثر ہونا اور ان کے دلوں میں اس خیال کا پیدا ہونالازمی تھا کہ اس جنگ میں حکومت کی پوری پوری مدد کرنی چاہئے تاکہ دشمن اور زیادہ آگے نہ بڑھنے پائے۔گورنمنٹ کی پالیسی یہ ہے کہ وہ اخباروں میں زیادہ بھیانک حالات چھپنے نہیں دیتی تاکہ لوگ ڈر نہ جائیں مگر جو لوگ وہاں سے آئے ہیں اور جو ہندوستان میں رہنے والے ہزاروں لاکھوں لوگوں کے بھائی بند اور رشتہ دار ہیں۔ان کی زبان کو کون روک سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں رہنے والے لوگ جنگ کے حالات سے زیادہ واقف ہو چکے ہیں۔بہ نسبت ان لوگوں کے جو دور رہتے ہیں اور اب تو یہ جنگ روز بروز قریب ہوتی جارہی ہے۔اب تک برما میں انگریزی فوج بہت کم جاسکی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ برما کو ہندوستان سے جو پہاڑی راستہ جاتا ہے اس راستہ سے زیادہ سامان اور آدمی نہیں پہنچائے جاسکتے اور سمندر پر بہت حد تک دشمن کا قبضہ ہے۔اس وجہ سے ہمارے ایک ایک سپاہی کو دشمن کے چار چار پانچ پانچ سپاہیوں سے لڑنا پڑتا ہے۔جس زمانہ میں لڑائیاں ایسی ہوتی تھیں دو چار گھنٹے لڑائی ہوئی اور پھر اس کا خاتمہ ہو گیا۔دشمن بھاگ گیا یا کچھ حصہ مارا گیا اور کچھ قید کر لیا گیا۔اس زمانہ میں ایک ایک سپاہی دس دس ہیں ہیں سپاہیوں کا بھی مقابلہ کر سکتا تھا۔مگر اب وہ زمانہ ہے کہ لڑائی میں کوئی وقفہ نہیں ہوتا اور رات دن لڑائی جاری رہتی ہے۔اُس زمانہ میں تو آدمی لڑتے تھے مگر اب تو پیخانہ کام کرتا ہے۔اس لئے لازماً جب سپاہی تھوڑے ہوں اور دشمن زیادہ ہوں تو چار چار پانچ پانچ دن تک ان