خطبات محمود (جلد 23) — Page 113
* 1942 113 خطبات محمود میری دعا سن سکتا ہے۔جب تک کسی انسان کو یہ یقین حاصل نہ ہو اس وقت تک اسے کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی کیونکہ یقین کامل جہاں ایک طرف انسان میں عظیم الشان تبدیلی پیدا کر دیتا اور اسے ایسا دلیر اور جری بنادیتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں کوئی شخص نہیں ٹھہر سکتا۔وہاں دوسری طرف یہ یقین خدا تعالیٰ کے فضل کو بھی جذب کرتا ہے۔دنیا میں بھی جب کسی انسان کو یہ یقین ہوتا ہے کہ دوسر ا صرف مجھ پر ہی انحصار رکھتا ہے تو وہ اس کی طرف زیادہ توجہ کیا کرتا ہے۔حضرت ابن عباس سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ دعا سب سے زیادہ جوش سے کس کے لئے کرتے ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ میں سب سے زیادہ جوش سے اس شخص کے لئے دعا کیا کرتا ہوں جو میرے پاس آئے اور کہے کہ میرے لئے آپ کے سوا اور کوئی دعا کرنے والا نہیں۔اس وقت مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ میں اس کا نگران اور محافظ مقرر کر دیا گیا ہوں اور میں اپنی ذات پر بھی اس کے لئے دعا کرنا مقدم کرلیتا ہوں جب ایک نیک بندے کا یہ حال ہوتا ہے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں اس وقت کس قدر جوش پید ا ہو تا ہو گا جب کوئی بندہ اس کے پاس جائے اور کہے کہ میرا تیرے سوا اور کوئی نہیں۔ایسے انسان کی نگرانی خود خدا تعالیٰ شروع کر دیتا ہے اور وہ اپنے فرشتوں کو کہتا ہے کہ دیکھو میرابندہ۔اس کو اب میرے سوا اور کوئی نظر نہیں آتا گو یہ اپنی مدد کے لئے پکارے اور یہ میرے پاس بہت بڑی امید لے کر آیا ہے۔اگر یہ ناقص العقل اور کمزور انسان مجھ پر ایسا یقین رکھتا ہے کہ میں اس کی مدد کروں گا تو میں جو طاقتور اور تمام صفات اور خوبیوں کامالک ہوں کیوں اس کی مدد نہیں کروں گا۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ ان نازک ایام میں گوہر شخص اپنی زبان میں بھی دعا کر سکتا ہے مگر خصوصیت سے الہامی دعاؤں کو مد نظر رکھنا چاہئے اور زیادہ تر وہی دعائیں مانگنی چاہئیں جو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں۔سب سے پہلے چونکہ یہ دجالی زمانہ ہے اس لئے میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ رسول کریم صلی علیم نے فرمایا ہے سورہ کہف کی پہلی اور پچھلی دس آیتیں اگر کوئی شخص پڑھ لیا کرے۔تو وہ دجالی فتنہ سے محفوظ رہے گا۔اس لئے سب سے پہلے میں جماعت کو اسی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جن دوستوں کو توفیق ملے وہ سورۃ کہف کی ابتدائی اور