خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 504

* 1942 504 خطبات محمود بیان کیا ہے اور دو گواہ تو یقینی طور پر موجود ہیں۔ایک اپنی جماعت کے یعنی چودھری ظفر اللہ خان صاحب اور دوسرے ہز ایکسی لنسی وائسرائے کے پرائیویٹ سیکرٹری سر لیتھویٹ۔چنانچہ دوسرے تیسرے دن جب وہ چودھری صاحب کے ہاں چائے پر آئے تو چو دھری ظفر اللہ خان صاحب نے مجھ سے کہا کہ انہیں آپ کے اس رویا سے بڑی دلچسپی ہے جو آپ نے اٹلی اور انگریزی فوجوں کی جنگ کے متعلق دیکھا ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ آپ کی زبان سے یہ رویا سنیں۔چنانچہ میں نے خود ان کو یہ رویا سنا یا جس وقت اب لیبیا کی جنگ میں انگریزوں کو دوبارہ شکست ہوئی ہے اور وہ دشمن کے دباؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے پیچھے ہٹ آئے ہیں تو اس وقت بھی میں نے یہ رویا اپنے ایک خطبہ میں بیان کر دیا تھا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس خواب کے تمام حصے نہایت عمدگی اور صفائی کے ساتھ پورے ہو گئے ہیں حالانکہ اس خواب کے بعض حصے ایسے تھے جن کے متعلق میرا پہلے یہ خیال تھا کہ وہ تعبیر طلب نہیں بلکہ خواب کو مزین کرنے کے لئے دکھائے گئے ہیں۔ہر انسان جس قدر خوابیں دیکھتا ہے اس کے دو حصے ہوتے ہیں۔ایک حصہ تو اصلی ہوتا ہے اور ایک حصہ ایسا ہوتا ہے جیسے تصویر میں بیک گراؤنڈ ہوتی ہے یعنی تصویر بنانے والے تصویر کے ساتھ اس کا ایک ماحول بھی تیار کرتے ہیں۔بعض دفعہ ان کا مقصد صرف ایک انسان کی تصویر تیار کرنا ہوتا ہے مگر وہ خالی انسان کی تصویر تیار نہیں کرتے بلکہ وہ اس کے ساتھ کہیں بادل دکھا دیتے ہیں، کہیں سورج چڑھتا ہوا دکھا دیتے ہیں، کہیں درخت دکھا دیتے ہیں۔ان کی غرض ان چیزوں کے بنانے سے تصویر کو دلچسپ بنانا ہوتا ہے۔اسی طرح پر خواب کے بعض حصے تو تعبیر طلب ہوتے ہیں مگر بعض حصے تعبیر طلب نہیں ہوتے۔وہ صرف اس خواب کو شکل دینے کے لئے ہوتے ہیں مثلاً خواب میں ہمارے سامنے ایک شخص آتا ہے اور اس کا نام بشیر احمد ہے تو اس کی تعبیر یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کوئی بشارت دینا چاہتا ہے۔پس خواب اتنی ہی ہو گی مگر جب اللہ تعالیٰ خواب میں بشیر احمد کو دکھائے گا تو اسے ننگا نہیں دکھائے گا بلکہ اس کے سر پر کلاہ ہو گا یا پگڑی ہوگی ، پاجامہ بھی اس نے پہنا ہو گا، قمیص بھی اس کے جسم پر ہو گی۔یہ الگ بات ہے کہ وہ کشمیری طرز کالمباگر تہ ہو یا عام قمیص ہو۔اسی طرح غالباً اس کے پاؤں میں بوٹ جوتی یا گر گابی بھی ہو گی۔اب اگر کوئی شخص خواب سنائے