خطبات محمود (جلد 23) — Page 505
* 1942 505 خطبات محمود اور کہے کہ میں نے خواب میں بشیر احمد دیکھا ہے۔اس کی کیا تعبیر ہے تو اسے کہہ دیا جائے گا کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ تمہیں کوئی خوشخبری ملنے والی ہے لیکن اس کے بعد اگر وہ کہے کہ اچھا خواب میں میں نے اس کے جو سر پر کلاہ دیکھا تھا اس کی کیا تعبیر ہے۔اس کے پاؤں میں جو جوتی تھی اس کی کیا تعبیر ہے۔اس نے جو پاجامہ پہنا ہوا تھا اس کی کیا تعبیر ہے۔اس کے جسم پر جو قمیص تھی اس کی کیا تعبیر ہے۔تو ایسے شخص کو ہم وہمی ہی کہیں گے۔یہ نہیں ہو گا کہ ہم پگڑی اور کلاہ اور قمیص اور پاجامہ اور بوٹ اور جوتی کی الگ الگ تعبیر بتانے لگ جائیں۔خواب کے یہ حصے ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے کوئی شخص اپنے کسی عزیز کو خط میں اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ لکھتا ہے۔اگر وہ خوشنویس ہوتا ہے تو اچھی طرح الف ڈالتا ہے، سین، لام اور میم کو بڑی احتیاط سے لکھتا ہے اور دائرے بڑی احتیاط سے ڈالتا ہے مگر اس کی اصل غرض ان دائروں سے نہیں ہوتی بلکہ اصل غرض اپنے مطلب سے ہوتی ہے۔یہ احتیاط وہ اپنے کام کو خو بصورت بنانے کے لئے کرتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ خوابوں کو خوبصورت بنانے کے لئے اس میں بہت سے ایسے حصے بھی شامل کر دیتا ہے جو در حقیقت خواب کا حصہ نہیں ہوتے۔اسی طرح خوابوں میں بہت سا حصہ انسان کے دماغ کا بھی ہوتا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو کہتا ہے اسے بشیر احمد دکھا دو۔وہ اسے بشیر احمد دکھا دیتے ہیں اور جس قسم کا لباس اسے پسندیدہ ہوتا ہے اسی قسم کے لباس میں وہ اسے دکھا دیتے ہیں۔اصل غرض صرف بشارت کی خبر دینا ہوتی ہے مگر لباس وغیرہ میں اس کی عام طبیعت اور دماغی مناسبت کو ملحوظ رکھ لیا جاتا ہے یا مثلاً کوئی شخص دعا کر رہا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ میں نے تیری دعا قبول کر لی ہے تو وہ اسے اسماعیل نامی کوئی شخص دکھا دیتا ہے۔چاہے وہ واقف ہو یا نا واقف، جنگل میں ہو یا شہر میں۔اس کے سر پر ٹوپی ہو یا پگڑی۔اب اگر کوئی شخص کہے کہ یہ تو ہوئی خواب کی تعبیر کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کر لی مگر یہ جو جنگل میں میں نے اسے دیکھا ہے، اس کی کیا تعبیر ہے، یا شہر میں اسے دیکھا ہے اس کی کیا تعبیر ہے، یا مشرق میں اسے دیکھا ہے ، اس کی کیا تعبیر ہے، یا مغرب میں اسے دیکھا ہے اس کی کیا تعبیر ہے، یا اس کا قد لمبا تھا اس کی کیا تعبیر ہے یا اس کا قد چھوٹا تھا اس کی کیا تعبیر ہے۔تو ہر واقف کار شخص کہے گا کہ ان چیزوں کی کچھ بھی تعبیر نہیں یہ صرف خواب کی تحسین