خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 472

* 1942 472 خطبات محمود کہا ہم یہ نہیں کر سکتے کہ اپنا جھنڈا دشمنوں کے حوالے کر دیں۔صلح کرنی اور بات ہے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ اپنا جھنڈا اپنے ہاتھ سے دشمن کے حوالے کر دیا جائے۔افسروں نے کہا ہم اس بارہ میں کیا کر سکتے ہیں۔یہ ہماری حکومت کا فیصلہ ہے اور اب لازماً ہمیں لڑائی چھوڑنی پڑے گی مگر اس بات میں ہم بھی تم سے متفق ہیں کہ اپنا جھنڈا دشمن کو دے دینا ایسی ذلت ہے جس سے بڑی اور کوئی ذلت نہیں مگر طے شدہ شرائط میں سے کسی شرط کو توڑ دینے کے یہ معنی تھے کہ پھر لڑائی مول لے لی جائے اور یا پھر دشمنوں کی طرف سے کوئی اور بھاری سزا قبول کی جائے چنانچہ وہ سب حیران تھے کہ کیا کریں، اتنے میں ایک کر نیل اٹھا۔اس نے اپنے جھنڈے کو اتارا اور قریب ہی کھانا پکانے کے لئے آگ جل رہی تھی اس میں وہ جھنڈا اس نے ڈال دیا اور پھر آگ میں جھنڈ ا ڈالنے کے بعد چینیں مار کر رونے لگ گیا۔جھنڈا جلانے کے معنی یہ تھے کہ ہم نے اپنی قوم کا جھنڈا د شمن کے ہاتھ میں نہیں جانے دیا اور اس کے رونے کے یہ معنی تھے کہ مجھے اپنے ہاتھ سے اپنی قوم کا جھنڈا تلف کرنا پڑا۔گویا اس نے دونوں کام کر لئے اپنے خیال میں اس نے اپنی قوم کی عزت کو بھی بچالیا اور پھر اپنے ہاتھ سے اپنی قوم کا جھنڈا تلف کرنے پر اس نے اپنے درد کا بھی اظہار کر دیا۔وہ ایک فوجی افسر تھا اور فوجی افسر کے لئے آنسو بہانا بھی برا سمجھا جاتا ہے مگر وہ اس وقت چیچنیں مار کر رونے لگ گیا۔بظاہر ایک انسان حیران ہوتا ہے کہ یہ کیسی عجیب بات ہے۔ایک سمجھدار اور عقلمند انسان تھوڑے سے کپڑے اور لکڑی کے ضائع ہونے پر رو رہا ہے مگر جب کسی قوم کے افراد کے دلوں میں اس کے جھنڈے کی عظمت قائم کر دی جاتی ہے تو وہ انہیں اس بات کے لئے تیار کر دیتی ہے کہ اگر اپنے جھنڈے کی حفاظت کے لئے انہیں اپنی جانیں بھی قربان کرنی پڑیں تو بلا دریغ جانیں قربان کر دیں کیونکہ اس وقت تھوڑی سی لکڑی اور کپڑے کا سوال نہیں ہو تا بلکہ قوم کی عزت کا سوال ہو تا ہے جو تمثیلی زبان میں ایک جھنڈے کی صورت میں ان کے سامنے موجود ہوتا ہے۔میں نے کئی دفعہ پہلے بھی بیان کیا ہے کہ ہمیں صحابہ میں بھی اس قسم کی مثال نظر آتی ہے۔ایک جنگ میں ایک مسلمان افسر کے پاس اسلامی جھنڈا تھا وہ لوگ شاندار جھنڈے نہیں بنایا کرتے تھے بلکہ ایک معمولی سی لکڑی پر کالا کپڑا باندھ لیتے تھے مگر چاہے وہ کالا کپڑا ہوتا، چاہے اس جھنڈے کی معمولی لکڑی