خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 473

* 1942 473 خطبات محمود ہوتی، اس وقت سوال قوم کی عزت کا ہوا کرتا تھا۔یہ نہیں دیکھا جاتا تھا کہ جھنڈا قیمتی ہے یا معمولی بلکہ وہاں صرف اس بات کو ملحوظ رکھا جاتا تھا کہ قوم کی عزت اس بات میں ہے کہ اس جھنڈے کی حفاظت کی جائے۔بہر حال اس لڑائی میں عیسائیوں نے جن کے خلاف جنگ ہو رہی تھی خاص طور پر اس جگہ حملہ کیا جہاں مسلمانوں کا جھنڈا تھا۔حضرت جعفر کے پاس بہ جھنڈا تھا اور یہ جنگ جنگ موتہ تھی۔انہوں نے جب حملہ کیا تو حضرت جعفر کا ایک ہاتھ کٹ گیا، انہوں نے جھٹ اس جھنڈے کو دوسرے ہاتھ میں پکڑ لیا۔جب دشمن نے دیکھا کہ جھنڈا پھر بھی نیچا نہیں ہوا تو اس نے دوبارہ حملہ کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا وہ دوسرا ہاتھ بھی کٹ گیا جس میں انہوں نے جھنڈا تھاما ہوا تھا۔انہوں نے فوراً جھنڈے کو دونوں لاتوں سے پکڑ لیا۔چونکہ لاتوں سے زیادہ دیر تک جھنڈا پکڑا نہیں جاسکتا تھا اس لئے انہوں نے زور سے آواز دی کہ کوئی مسلمان آگے آئے اور اس جھنڈے کو پکڑے اور انہوں نے کہا مسلمانو! دیکھنا اسلام کا جھنڈا نیچا نہ ہو۔اب تھا وہ کپڑے کا یا معمولی لکڑی کا جھنڈ ا مگر اس کا نام انہوں نے اسلام کا جھنڈار کھا کہ گو ہے تو وہ لکڑی کا ، ہے تو وہ معمولی سے کپڑے کا مگر بہر حال اسلام کا جھنڈا ہے اس لئے اس کی حفاظت ضروری ہے۔چنانچہ ایک اور افسر نے آگے بڑھ کر اس جھنڈے کو پکڑ لیا۔میرا خیال ہے کہ غالباً وہ حضرت خالد بن ولید تھے جنہوں نے وہ جھنڈ ا پکڑا۔تو دیکھو ایک کپڑے کی چیز ہے، معمولی لکڑی کی چیز ہے اور اسلام کے نزدیک اس کپڑے یا لکڑی کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں مگر جس حد تک قومی اعزاز کا سوال ہے، اسلام اس سے منع نہیں کرتا۔انہوں نے کہا یہ اسلام کا جھنڈا ہے دیکھنا یہ گرنے نہ پائے اور رسول کریم صلی الل عالم نے بھی ان کی اس بات کو نا پسند نہیں کیا بلکہ بعض دفعہ خود رسول کریم صلی العلم ایسی چیزوں کی عظمت قائم کرنے کے لئے فرما دیا کرتے تھے کہ یہ جھنڈ ا کون شخص لے گا۔چنانچہ بعض لڑائیوں میں آپ نے فرمایا کہ میں جھنڈا اس شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو اس کی عزت کو قائم کرے گا اور صحابہ ایک دوسرے سے بڑھ بڑھ کر اس جھنڈے کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔اسی طرح ایک دفعہ آپ ایک تلوار لائے اور فرمایا یہ تلوار میں اس شخص کو دوں گا جو اس کا حق ادا کرے گا۔کئی لوگوں نے اپنے آپ کو اس کے لئے پیش کیا مگر