خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 471

* 1942 471 خطبات محمود تو سب لوگ کہیں گے یہ بڑا بے حیا اور بے شرم ہے ، باپ نیچے بیٹھا ہوا ہے اور بیٹا اوپر بیٹھ گیا ہے حالانکہ عملی طور پر اس نے اپنے باپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہو تا۔باپ اگر نیچے بیٹھا ہوتا ہے تو اپنی مرضی سے بیٹھا ہوتا ہے اور بیٹا اگر اوپر بیٹھ رہتا ہے تو اس لئے بیٹھتا ہے کہ اسے اوپر بیٹھنے سے آرام حاصل ہوتا ہے مگر تصویری زبان میں چونکہ اوپر اور نیچے کے معنے عزت اور ذلت یا اعلیٰ اور ادنیٰ کے سمجھے جاتے ہیں اس لئے باوجود اس کے کہ بیٹے کے اوپر بیٹھنے سے باپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا وہ اگر اوپر بیٹھ جاتا ہے تو سب لوگ اسے برا سمجھتے ہیں۔اس لئے تصویری زبان میں اوپر اور نیچے کا مفہوم اعلیٰ اور ادنیٰ کے معنوں میں سمجھا جاتا ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے اپنے عمل سے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ میں اعلیٰ ہوں اور میرا باپ ادنی ہے یا میں بڑا ہوں اور میر اباپ چھوٹا ہے۔اسی تصویری زبان کے لحاظ سے جب کسی مسجد کو گرایا جاتا ہے تو یہ نہیں سمجھا جاتا کہ چند اینٹوں کو گرا دیا گیا ہے بلکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسجد پر حملہ کر کے خدا تعالیٰ کی عبادت کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔میں نے ابھی جھنڈے کی مثال دی تھی اور میں نے بتایا تھا کہ قوموں میں جھنڈے کا بڑا ادب اور احترام کیا جاتا ہے۔بعض دفعہ دشمن سے اس کا جھنڈا چھینے کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کی جاتی ہیں اور بعض دفعہ اپنا جھنڈا بچانے کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کی جاتی ہیں اور یہ شرک نہیں ہو تا بلکہ جیسے باپ کے سامنے اس کے بیٹے کا اوپر بیٹھنا سب لوگ ناجائز سمجھتے ہیں اس لئے کہ اس طرح تمثیلی زبان میں باپ کی ہتک ہوتی ہے ، اسی طرح تمثیلی زبان میں چونکہ قوم کا جھنڈا چھینے جانے کے معنے اس کی عزت و آبرو کے خاک میں مل جانے کے ہیں۔اس لئے قومیں اپنی جانیں قربان کر دیتی ہیں مگر یہ برداشت نہیں کر سکتیں کہ ان کا جھنڈا دشمن کے قبضہ میں چلا جائے۔فرانس کا ایک مشہور واقعہ ہے اس جنگ میں نہیں بلکہ اس سے پہلے کی جنگ میں ایک دفعہ جرمن والوں نے فتح پائی اور فرانس کی حکومت نے جرمنی سے صلح کر لی۔صلح کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو فوج آگے لڑ رہی ہے اس کا جھنڈاجر منوں کے حوالے کر دیا جائے۔جس وقت یہ اطلاع اس فوج کو پہنچی وہ آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے اور انہوں نے