خطبات محمود (جلد 23) — Page 390
* 1942 390 خطبات محمود ہی ایسا ہو جاتا ہے۔ان کا جسم حرکت ہی ایسے رنگ میں کرتا ہے اور ان کی انتڑیوں کا یہ عمل صحت کا حصہ ہو گیا ہوتا ہے۔تو ایسی مزمن صورتیں جو بعض اوقات صحت کا جزو ہو چکی ہوتی ہیں اور ان کی وجہ سے روزہ چھوڑنا جائز نہیں۔بعض لوگوں کی آنکھوں میں سرخی ہوتی ہے۔جب سے وہ پیدا ہوئے ہوتے ہیں ان کی آنکھیں سرخ ہی ہوتی ہیں یا کسی بیماری کے بعد یہ حالت ہو جاتی ہے۔اب آنکھوں کی سرخی عام طور پر تو بیماری ہے اور آنکھیں دکھنے کی علامت ہے مگر ایسے لوگوں کو نہ تو کوئی درد ہوتا ہے، نہ گھبراہٹ ہوتی ہے، نہ آنکھوں میں رمد آتی ہے۔اس لئے آنکھوں کی یہ سرخی بیماری نہیں اور اس کی بناء پر روزہ نہیں چھوڑا جاسکتا کیونکہ یہ صحت کا حصہ ہے۔دوسرے کے لئے بیماری ہے مگر ایسے انسان کے لئے بیماری نہیں۔اس کی صحت نے عام صحت سے مختلف شکل بدل لی ہوتی ہے جیسے کیلا عام طور پر اکیلا ہوتا ہے مگر بعض دفعہ دو جڑے ہوئے بھی ہوتے ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ کیلا نہیں رہا بلکہ آم ہو گیا ہے۔بعض دفعہ آم کے دو پھل اکٹھے ہوتے ہیں مگر وہ ہوتے آم ہی ہیں یہ نہیں کہ وہ خربوزہ بن جاتے ہیں۔تو انسانی صحت کی عام کیفیت اور ہوتی ہے اور خاص اثرات کی اور۔بعض لوگوں کو نزلہ نہیں ہوتا لیکن پھر بھی ناک سے رطوبت ہر وقت بہتی رہتی ہے ، وہ جہاں بیٹھیں گے سرڈ سرڈ کرتے رہیں گے وہ کسی کام میں ان کے لئے روک نہیں ہو تا ، وہ ہر کام کرتے ہیں۔اگر زمیندار ہیں تو ہل بھی چلائیں گے یا جو کام کرتے ہیں کرتے رہیں گے۔کھائیں گے پیئں گے لیکن ہر وقت سرڈ سرڈ کرتے رہیں گے۔یہ کوئی بیماری نہیں ہوتی بلکہ میوکس ممبرین (mucous membrane) کو عادت ہو جاتی ہے کہ ہر وقت کچھ نہ کچھ رطوبت چھوڑتی رہتی ہے۔ان کو نہ نزلہ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، نہ بخار ہوتا ہے اور نہ اس سے کسی قسم کا ضعف ہو تا ہے۔مگر ان کا سرڈ سرڈ کرنا ہمیشہ جاری رہتا ہے۔اب ایسا انسان اگر کہے کہ میں روزہ نہیں رکھتا کیونکہ میں بیمار ہوں تو وہ گناہ کرے گا کیونکہ دراصل وہ بیمار نہیں ہے۔صرف اس کی صحت نے بیماری کے مشابہ شکل اختیار کرلی ہے۔پھر میں نے دیکھا ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس لئے روزہ نہیں رکھتے کہ اس سے ضعف ہو جاتا ہے گویا وہ سمجھتے ہیں کہ روزہ ان کو موٹا تازہ کرنے کے لئے ہے۔یہ ضعف