خطبات محمود (جلد 23) — Page 389
* 1942 389 خطبات محمود ایسی کیفیت اور حالت کی وجہ سے روزوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ شریعت کے منشاء کو پورا کر رہے ہیں حالانکہ دنیا میں ایسا تندرست انسان تو ملنا قریباً نا ممکن ہے جسے کوئی بیماری نہ ہو۔بعض اطباء نے لکھا ہے کہ ایسا انسان جسے کوئی بیماری نہ ہو وہ آخری عمر میں جذام یا جنون وغیرہ کا شکار ہونے کے خطرہ میں ہوتا ہے۔پس اس قسم کی مزمتن حالتیں جو دراصل انسانی صحت کا جزو بن گئی ہوتی ہیں اور جو اکثریت کے ساتھ لگی ہوتی ہیں وہ روزوں کو چھوڑنے کا بہانہ نہیں بن سکتیں۔ہمارے ملک میں شاید غذاؤں کی صحیح طور پر نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کی انتڑیوں میں ہلکی سی سوزش ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ہمارے ملک کی آبادی کا اکثر حصہ قبض کی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے۔تو کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ سب روزوں سے بچ جائیں مگر یہ حالتیں بیماریاں نہیں ہیں بلکہ صحت کے مختلف مدارج ہیں۔بیماری وہی ہے جو حاد ہو اور جو نیا حملہ کرتی ہے اور اسی کی بناء پر روزہ چھوڑا جا سکتا ہے یا پھر وہ مز متن بیماری جس کی بناء پر ڈاکٹر اور طبیب روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دے اور روزہ رکھنے سے معذور قرار دے دے ور نہ مزمتن حالتیں جو عام طور پر لاحق رہتی ہیں ان کی بناء پر روزہ چھوڑ نا جائز نہیں۔میری اپنی مثال ہی ہے میرے اندر ایک بیماری ہے جو خفیف سی قبض سے پیدا ہوتی ہے اور اسی سے پھر کئی قسم کی بیماریاں پید اہو جاتی ہیں۔1918ء میں جب میں انفلوئنزا سے بیمار ہوا تھا اس وقت سے یہ شکایت چلی آتی ہے مگر عام صحت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن یہ ایسی مزمن صورت اختیار کر گئی ہے کہ اگر اسے بیماری قرار دیا جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ 1918ء کے بعد سے مجھ پر کوئی روزہ فرض نہیں مگر میں اپنے نفس کو دیکھتے ہوئے یہ جانتا ہوں کہ یہ بیماری نہیں ہے کیونکہ یہ حاد صورت نہیں بلکہ جسم کا ایک حصہ بن گئی ہے اور بیماری کے بعد جسم نے صحت کی صورت کو بدل دیا ہے۔کئی لوگ ہیں جن کو آٹھ آٹھ دن پاخانہ نہیں آتا مگر یہ کوئی بیماری نہیں ہوتی۔ان کی انتڑیوں کا عمل ہی ایسا ہو جاتا ہے، کسی دوسرے کو اتنے دنوں اگر پاخانہ نہ آئے تو کوئی ایسی بیماری ہو جائے جو شاید بے ہوش کر دے، بخار ہو جائے یا کوئی اور تکلیف ہو جائے۔مگر ان کو کوئی خاص تکلیف آٹھ آٹھ دن تک پاخانہ نہ آنے سے نہیں ہوتی کیونکہ ان کی انتڑیوں کا عمل