خطبات محمود (جلد 23) — Page 391
* 1942 391 خطبات محمود ہو جانا کوئی بیماری نہیں جس کی بناء پر روزہ چھوڑا جا سکے۔ہاں وہ ضعف جو بغیر روزہ کے پیدا ہو وہ بیماری ہے۔مثلاً 60-70 سال کا کوئی بوڑھا ہو ، اس کا گوشت گھلنے لگا ہو، ٹانگیں لڑکھڑاتی ہوں، کھڑے ہونے سے کانپتی ہوں اور گرنے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہو، نظر میں فرق آگیا ہو ، تو اس کا ضعف البتہ بیماری ہے۔اگر ایسے شخص کو روزہ رکھوایا جائے تو اس کا ضعف بڑھے گا۔ایسے ضعف کو بیماری کہا جاتا ہے اور ایسے شخص کے لئے بے شک جائز ہے کہ روزہ نہ رکھے۔لیکن یوں تو دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں جسے روزہ رکھنے سے ضعف نہ ہوتا ہو، کوئی انسان کتنا طاقتور کیوں نہ ہو جب سحری کھائے گا تو اس کی صحت کی حالت اور ہو گی اور شام کو افطاری کے قریب اور ہو گی۔اگر صبح کو وہ 15 میل دوڑ سکتا ہے تو شام کو اس کی دوڑنے کی طاقت اول تو6-7 میل کی نہیں تو بارہ تیرہ میل کی تو ضرور ہی رہ جائے گی اور روزہ سے اتنا ضعف تو ہر شخص کو ہوتا ہے۔اس لئے اس کی بناء پر روزہ چھوڑنا درست نہیں۔مجھے افسوس ہے کہ بعض اطباء اور ڈاکٹر بھی اس بات میں مدد کرتے ہیں۔کسی نے کہا کہ مجھے روزہ رکھنے سے ضعف ہوتا ہے تو جھٹ کہہ دیں گے کہ پھر روزہ نہ رکھو حالانکہ ان سے زیادہ کون اس سے واقف ہو سکتا ہے کہ روزہ کے نتیجہ میں ضرور کچھ نہ کچھ ضعف ہوتا ہے۔وہ خود رکھتے ہیں اور کیا وہ نہیں جانتے کہ اس سے ضعف ہوتا ہے۔کیا وہ صبح جب روزہ رکھتے ہیں تو کمزور ہوتے ہیں اور شام کو پہلوان بن جاتے ہیں۔پس ان کو بھی احتیاط سے کام لینا چاہئے اور چاہئے کہ ایسے شخص کا سینہ دیکھیں، دل دیکھیں اور اگر ان اعضاء میں کمزوری پائیں تو پھر بے شک کہیں کہ یہ بیماری ہے لیکن اگر ایسانہ ہو تو صرف یہ کہنے سے کہ روزہ سے ضعف ہو جاتا ہے روزہ چھوڑ دینے کا مشورہ نہیں دینا چاہئے۔اگر کوئی شخص ان سے پوچھے تو چاہئے کہ اس کے جسم کا اچھی طرح معائنہ کریں اور پھر رائے دیں اور اگر وہ جسم کا معائنہ نہ کرانا چاہے تو ایسے شخص سے کہہ دیں کہ روزہ تو اللہ تعالیٰ نے رکھا ہی اس لئے ہے کہ انسان کو کچھ ضعف ہو اور انسان ضعف کا بھی کچھ مزہ چکھے۔اس کے سوا جو ڈاکٹر یا طبیب یو نہی کسی کے کہنے پر کہ مجھے روزہ سے ضعف ہو جاتا ہے اسے روزہ چھوڑ دینے کا مشورہ دے دیتا ہے وہ گناہ میں شریک ہے۔ایک شخص اپنا ہی بوجھ نہیں اٹھا سکتا تو جس کے مشورہ سے 20 آدمی روزہ چھوڑیں وہ ان کا بوجھ کس طرح اٹھا سکے گا۔پس چاہئے کہ