خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 504

* 1941 504 خطبات محمود کو اڑا کر دیکھ لیں۔پھر کس طرح اپنے آپ پر ساری دنیا اور زمین و آسمان پر لعنتیں ڈالنے لگتے ہیں۔دنیا میں انسان والد، والدہ، دادا، دادی، نانا، نانی، وغیره قریبی رشته داروں کی موت کے صدمہ کو کتنا محسوس کرتے ہیں اور یہ احساس ایک طبعی تقاضا لیکن اگر یہ احساس اتنا بڑھ جائے کہ انسان سمجھے خدا نے بڑا ظلم کیا ہے جو موت پیدا کی۔میں اسے اڑا دوں گا اور وہ اسے اڑانے میں کامیاب ہو جائے۔تو ذرا تصور کرو کیا حالت ہو۔کوئی چھوٹے سے چھوٹا گاؤں لے لو۔قادیان کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے گاؤں ننگل، بھینی اور کھارا ہیں۔آج بھی ان گاؤں کے زمینداروں کی حالت بہت غربت کی ہے کسی کے پاس چار گھماؤں زمین ہے۔کسی کے پاس پانچ، کسی کے پاس آٹھ اور کسی کے پاس دس گھماؤں ہے۔جس سے موجودہ افراد بھی بڑی تنگی سے گزارہ کرتے ہیں اور بعض نے تو تنگ آکر جو تھوڑی بہت زمین تھی فروخت کر دی اور اب محنت و مزدوری کر کے گزارہ کر رہے ہیں۔اب ذرا غور کرو اگر ان کے باپ دادا، پر دادا اور پھر آدم تک سات ہزار سال میں جتنے لوگ تھے سب زندہ ہوتے پھر ان کی مائیں دادیاں، پر دادیاں بھی آخر تک زندہ ہوتیں پھر ان کے بیچے چچیاں آخر تک زندہ ہوتے تو کیا ان کے پاس ایک گھماؤں چھوڑ ایک ایک مرلہ زمین بھی ہوتی؟ ایک مرلہ تو کجا ناخن کے کاٹے ہوئے حصہ کے برابر زمین بھی کسی کے حصہ میں نہ آسکتی۔اور جب یہ حالت ہوتی تو یہ لوگ کھاتے کہاں سے پھر راتوں کے سونے کے لئے بھی جگہ نہ ملتی۔راتوں کو ایک کے اوپر دوسرا، دوسرے کے اوپر تیسرا اور تیسرے کے اوپر چوتھا حتی کہ ایک ایک پر پچاس پچاس آدمی سوتے۔تب بھی شاید سب کے لئے لئے جگہ نہ مل سکتی۔سائنس والے دنیا کی عمر دو کروڑ سال بتاتے ہیں اور ہندوؤں کی تو ہر چیز بے حساب ہوتی ہے۔اس لئے ان کے نزدیک دنیا کی عمر اربوں ارب سال ہے اور مسلمانوں کے نزدیک چھ ہزار سال ہے۔اربوں ارب سال کو جانے دو۔دو کروڑ سال کو بھی جانے دو صرف چھ ہزار سال ہی لے لو۔اگر چھ ہزار سال کے لوگ سب کے سب زندہ ہوتے تو کیا حال ہوتا۔سب