خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 503

خطبات محمود 503 * 1941 کیا شبہ رہ جاتا۔اس صورت میں سزا سے بچنا محال تھا۔اگر کسی کا انجام توبہ پر بھی ہوتا تو بھی وہ سزا سے نہ بچ سکتا کیونکہ وہ جانتا کہ خدا تعالیٰ تو رحم کر ہی نہیں سکتا۔اس نے سزا بہر حال دینی ہے۔مگر یہاں ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کہہ کر یہ امید دلا دی کہ اگر انجام بھی خراب ہو تو بھی نا امیدی کی کوئی بات نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ پھر بھی معاف کر سکتا ہے۔پس یہاں اَلحَمدُ لِلهِ کہنے کے یہ معنی ہیں کہ شکر ہے ہمارا مقدمہ کسی ایسے مجسٹریٹ کے پیش نہیں ہو رہا جو رحم کرنا نہیں جانتا۔یہاں ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کہہ کر بتایا کہ اللہ تعالیٰ رحم کر سکتا ہے اور رحم کی امید دلاتا ہے۔ایسی صورت میں روزانہ ہم مجرموں کو الحمدُ للهِ کہتے دیکھتے ہیں۔مگر جہاں اللہ تعالیٰ یہ فرمائے کہ تم نے جتنا دوڑنا ہو دوڑ لو۔اپنی تمام تدابیر اختیار کر لو پھر بھی تم ہماری سزا سے سے نہیں بچ سکتے۔ہم تم کو ضرور سزا دیں گے اور ایسا عذاب دیں گے کہ بھون کے رکھ دیں گے۔اس کے بعد کہنا کہ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِ بْنِ ایک بے جوڑ سی بات ہے۔مگر نئے ممکن اور پرانے مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس آیت کے معنی یہی ہیں۔ہے کسی کو اختلاف بھی ہو۔میں نے ساری تفاسیر نہیں دیکھیں مگر جو دیکھی ہیں ان سب کا ان معنوں پر اتفاق اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے مجھے ان معنوں سے ہے اختلاف ہے اور ان وجوہ سے جو اوپر بیان کی گئی ہیں۔میرے نزدیک اس کے معنی ہے سیدھے سادے ہیں اور ان الفاظ کے اندر بھاری حکمت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا يمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمُ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانْفُذُوا یعنی اے بڑے لوگوں کے گروہ اور اے چھوٹے لوگوں کے گروہ اور اے حکام کے گروہ اور اے عوام کے گروہ۔دنیا میں دو ہی قسم کی حکومتیں ہوتی ہیں ایک آسمانی یعنی مذہبی اور اخلاقی اور دوسری زمینی یعنی قانون فطرت اور قانون سائنس کی۔یہ دو حکومتیں جاری ہیں جن کو بسا اوقات انسان اپنی نادانی سے اپنے لئے بوجھ سمجھتا ہے۔خدا تعالیٰ نے موت بنائی ہے اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی رحمت ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ یہ رحمت ہے۔لوگ عام طور پر اس سے گھبراتے ہیں۔مگر موت۔