خطبات محمود (جلد 22) — Page 77
* 1941 77 خطبات محمود فرمایا کیا گیا ہے کہ اسے زیادہ قیمت پر فروخت کر دیا جائے۔میں نے کہا کہ فیصلہ تو بے شک ہوا ہے مگر میری یہ رائے نہیں تھی۔حضرت خلیفہ اول نے ان لوگوں کی طرف ہاتھ کر کے فرمایا کہ آپ لوگ تو کہتے تھے کہ میاں صاحب کی بھی یہی رائے تھی۔ان لوگوں نے کہا کہ ان کے مشورہ سے ہی فیصلہ ہوا تھا۔میں نے کہا یہ بالکل غلط ہے۔میں نے تو کہہ دیا تھا کہ میری رائے وہی ہے جو حضرت خلیفۃ امسیح کی ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ نے اجازت دے دی ہے اس پر میں نے کہا کہ مجھے اجازت دکھاؤ اور اسے دیکھ کر میں نے صاف کہہ دیا کہ یہ اجازت تو نہیں یہ تو اظہار ناراضگی ہے۔اور میری رائے یہی ہے کہ جس طرح حضرت خلیفة المسیح نے ہے اسی طرح کیا جائے۔حضرت خلیفہ اول نے ان لوگوں سے فرمایا کہ اب بولو یہ تو انکار کرتے ہیں۔اس پر شیخ رحمت اللہ صاحب نے کہا کہ انہوں نے زور دے کر یہ فیصلہ کرنے سے ہم کو روکا نہیں تھا۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے غصہ سے فرمایا کہ تم انہیں بچہ بچہ کہتے رہتے ہو یہ تو میری تحریر کو سمجھ گئے مگر تمہاری سمجھ میں نہ آئی۔یہ کس طرح روکتا ؟ تمہارے ہاتھ پکڑ لیتا؟ انہوں نے پھر یہی کہا کہ انہوں نے زور دے کر نہیں روکا تھا۔میں نے کہا کہ میرے پاس روکنے کے لئے کیا اختیار تھا؟ آپ لوگ بھی ممبر تھے اور میں بھی ایک ممبر تھا۔میں کیا کر سکتا تھا؟ یہ لوگ ہیں جو صحابی کہلاتے ہیں مگر افسوس میرے خلاف ہمیشہ جھوٹ سے کام رہے ہیں۔پس ہماری جماعت کو یہ سبق حاصل کرنا چاہئے کہ صرف منہ سے کوئی صحابی نہیں بن سکتا۔صحابی بننے کے لئے صداقت پر عمل بہت ضروری ہے مگر ان لوگوں نے میرے معاملہ میں ہمیشہ یہی راہ اختیار کی ہے اور جھوٹ بولا ہے۔اس قسم کے بہت سے واقعات ہیں صرف یہی نہیں۔اس زمانہ میں تو ایک نہ ختم ہونے والا فساد تھا جو چلتا ہی جاتا تھا۔مگر میں ان باتوں سے گھبراتا نہیں۔میں جانتا ہوں کہ ان لوگوں کی طرف سے ایسی باتیں ہمیشہ سے ہوتی رہی ہیں۔یہ برادرانِ یوسف ہیں۔پہلے برادرانِ یوسف کو تو توبہ نصیب ہو گئی تھی۔خدا جانے ان کو تو بہ نصیب ہو گی