خطبات محمود (جلد 22) — Page 76
$1941 76 خطبات محمود دے دی ہے اور میں تو اکیلا اس رائے کا ہوں آپ لوگوں کی کثرت ہے جس عبد طرح چاہیں کریں۔غرض انہوں نے اس قسم کا ریزولیوشن پاس کر دیا کہ اس مکان کو زیادہ سے زیادہ قیمت پر فروخت کر دیا جائے۔اسی دن یا غالباً ایک دو روز بعد میں اپنے گھر میں بیٹھا تھا کہ حکیم میر احمد صاحب قریشی جو حضرت خلیفہ اول کے بھتیجے یا بھانجے ہیں آئے اور دروازہ پر دستک دی اور مجھے کہا کہ حضرت خلیفۃ امیج بلاتے ہیں۔حضرت خلیفة المسیح الاول اس کمرہ میں بیٹھے تھے جو مسجد کے اوپر ہے اور جہاں آجکل شیخ بشیر احمد صاحب پلیڈر آکر ٹھہرتے ہیں۔ایک زمانہ میں وہاں مولوی الكريم صاحب مرحوم بھی رہا کرتے تھے۔اس وقت ہمارے مکان کی شکل اور جس دروازہ سے میں گرمیوں میں مسجد میں آیا کرتا ہوں اس جگہ اس زمانہ میں چھوٹی سی کھڑ کی ہوتی تھی۔اب اس کے آگے ہمارے گھر کی طرف صحن ہے مگر اس وقت وہاں صرف ایک راستہ بنا ہوا تھا۔باقی جگہ چھتی ہوئی نہ تھی بلکہ وہ کھلی ہوئی تھی اور اور اس کے نیچے دوسری منزل کا ایک صحن تھا جس میں لکڑی کی سیڑھیاں لگی ہوئی تھیں اور جہاں مسجد مبارک کی اوپر کی حد ختم ہوتی ہے سیڑھیوں سے چڑھ کر وہاں سے ہوتے ہوئے مسجد میں سے گزر کر اس کمرہ میں پہنچتے تھے۔میں اسی راستہ سے آیا اور اس کمرہ میں داخل ہوا۔حضرت خلیفہ اول کی پیٹھ شمال کی طرف تھی اور منہ جنوب کی طرف تھا یہ سب وہاں بیٹھے تھے۔ان لوگوں کائنہ شمال کی طرف پیٹھ جنوب کی طرف تھی۔مغرب کی جانب کچھ جگہ تھی میں اس طرف بیٹھ گیا۔حضرت خلیفہ اول نے میری طرف منہ کر کے بہت ناراضگی میں فرمایا کہ میاں اب ہماری مخالفت شروع ہو گئی ہے۔میں طرز سے بھانپ گیا کہ ضرور کوئی فساد کی بات ہوئی مگر میرا ذہن اصل بات کی طرف نہیں گیا۔میں نے کہا کہ میں ہے نے تو کوئی مخالفت نہیں کی۔آپ نے فرمایا کہ ہم نے حکم دیا تھا کہ اصل مالکوں کو پانچ ہزار روپیہ میں یہ مکان دے دیا جائے مگر ہماری مرضی کے خلاف یہ فیصلہ