خطبات محمود (جلد 22) — Page 563
* 1941 563 خطبات محمود آپ کے دشمن نہیں تھے اور اگر جرمن جیت گئے تو ان سے کہہ دیں گے کہ ہم کے دشمن نہیں تھے۔بہر حال ان کا پہلا اعلان صاف بتاتا تھا کہ وہ خطرہ کی اہمیت کو سمجھتے ہیں مگر اب اُن کے دل میں شبہ ڈال دیا گیا ہے کہ انگریزوں کی کامیابی یقینی نہیں۔ہو سکتا ہے کہ جرمن ہی جیت جائیں۔اس لئے آپ اپنی جان بچانے کی کوشش کریں اور کسی ایک طرف نہ جھکیں۔اور لوگ بھی ہیں جو خطرہ کی اہمیت کو سمجھتے ہیں مگر ان کی آواز کا اثر بہت کم ہے۔حالانکہ حالات نہایت نازک ہیں اور خطرہ روز بروز بڑھتا چلا جا رہا ہے مگر افسوس کہ وہ لوگ جو ملک کو بیدار کر سکتے ہیں انہیں اس کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں۔صرف ہماری جماعت کے لوگ ہی ہیں جنہیں اس خطرہ کی طرف توجہ ہے اور یہ بات تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لئے کونسی بات زیادہ مفید ہے مگر جہاں تک ہمارے علم کا تعلق ہے ہمیں انگریزوں کی نسبت زیادہ حسن ظنی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جرمنوں سے زیادہ بہتر ہیں۔پس ہمارا اپنے علم کی بنیاد پر یہی فرض ہے کہ ہم انگریزوں کی مدد کریں گو یہ بھی ایک حقیقت ہے ہے کہ اس قدر جنگ اور خون ریزی کے بعد بھی انگریزوں کے دلوں میں خدا کا خوف پیدا نہیں ہوا اب بھی حکومت کی طرف سے ہم پر ظلم جاتے ہیں اور بجائے اس کے کہ گورنمنٹ ان ظلموں کا ازالہ کرے وہ اپنی جھوٹی عزت کو بچانے کے لئے بہانے بناتی رہتی ہے۔اور غرض یہ ہوتی ہے کہ ہم اس وقت جواب دیں گے جب کوئی بہانہ مکمل ہو جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ ہماری جماعت کے بعض نوجوان گو میرے کہنے پر فوج میں بھرتی ہو رہے ہیں مگر جب وہ مجھ سے ملنے کے لئے آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم آپ کے کہنے پر فوج میں جا رہے ہیں ورنہ سچی بات یہی ہے کہ ہمارے دل انگریزوں کے ساتھ نہیں ہمارا تجربہ بھی کتے یہی ہے کہ ابھی تک ان میں خدا کا خوف پیدا نہیں ہوا۔وہ یہی چاہتے ہیں کہ طرح لوگ ان کی اطاعت کرتے جائیں اور انہی جی حضور کہتے رہیں۔ورنہ اگر کوئی سچائی لے کر کھڑا ہو جائے اور ان کی غلطی پکڑ لے تو وہ اپنی غلطی ماننے کے لئے