خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 564

* 1941 564 خطبات محمود۔تیار نہیں ہوتے۔انگریزی حکومت کے ماتحت کم سے کم پنجاب میں ہم سے یہی سلوک ہو رہا ہے۔اور جب اس قسم کے حالات پیدا ہو جائیں تو دلوں میں سے دعائیں نکلنی مشکل ہو جاتی ہیں۔لیکن بہر حال عظمند وہی ہوتا ہے جو دوسرے کے فعل کو دیکھنے کی بجائے اصل واقعات کو دیکھے اور وہ راہ اختیار کرے جو صحیح اور درست ہو۔ہم اگر صرف حکومت کے بعض افسروں کے رویہ کو دیکھیں تو بے شک کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان حالات میں ہم حکومت کی کیوں مدد کریں لیکن اگر ہم حالات کو اس نقطہ نگاہ سے دیکھیں کہ اس وقت دنیا پر جو مصیبت چھائی ہوئی ہے اس کا اثر صرف انگریزوں پر ہی نہیں بلکہ ہم پر بھی پڑنے والا ہے تو ہماری عقل یہی فیصلہ کرے گی کہ ہمیں انگریزوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنی چاہئے اور دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالی اس فتنہ کو جلد دور کرے۔اللہ تعالیٰ کے اختیار میں سب کچھ ہے۔بیسیوں مواقع اس جنگ میں ایسے پیدا ہوئے جب یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اب انگریز جرمنوں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے بلکہ ایک وقت تو ایسا آیا کہ خود انگریز یہ سمجھتے تھے کہ اب ہمارے لئے جرمنی کا مقابلہ کرنا مشکل ہے مگر اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت مجھے یہ خبر دے دی تھی کہ انگریزی حکومت ختم نہیں ہو گی بلکہ اس کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائے گی۔انگریز اگر سوچتے تو ان کے لئے یہی نشان کافی تھا۔چنانچہ کتنی دردناک تقریر تھی مسٹر چرچل وزیر اعظم کی، جب انہوں نے کہا کہ اب وہ دن آ گیا ہے کہ ہماری قوم پر جرمن حملہ آور ہوں۔ہم سمندر کے کناروں پر جرمنوں کا مقابلہ کریں گے اور اگر سمندر کے کناروں پر مقابلہ نہ ہو سکا اور وہ اندر داخل ہو گئے تو ہم اپنے شہروں میں ان کا مقابلہ کریں گے، پھر لنڈن کی گلیوں میں ان کا مقابلہ کریں گے، اور اگر پھر بھی ہم دشمن کا مقابلہ نہ کر سکے اور وہ ہمارے ملک پر قابض ہو گیا تو ہم کینیڈا چلے جائیں گے اور وہاں سے اس کا مقابلہ کریں گے۔گویا وزیر اس بات کا امکان سمجھتے تھے کہ جرمنی ساحل انگلستان پر حملہ کرے گا اور پھر اس میں