خطبات محمود (جلد 22) — Page 562
* 1941 562 خطبات محمود آ سکیں بلکہ ہندوستان ضرورت کے مقابلہ میں ٹینکوں اور ہوائی جہازوں کا سواں حصہ بھی تیار نہیں کر سکتا۔باہر سے جو سامان آتا ہے وہ بھی اتنا محدود ہے کہ اس سے کوئی بڑی فوج تیار نہیں کی جا سکتی۔ایسے خطرناک حالات میں ہندوستان کو بہت زیادہ خطرہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ واقف لوگ ہندوستانیوں کو بار بار جگا رہے ہیں کہ اٹھ کر اپنی حفاظت کا سامان کر لو ایسا نہ ہو کہ بعد میں پچھتانا پڑے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ زیادہ تر یہ تحریک حکومت کے نمائندگان کی طرف سے ہوتی ہے اور قدرتی طور پر ان کی تحریک سن کر خیال پیدا ہوتا ہے کہ شاید وہ اپنے فائدہ کے لئے کہہ رہے ہیں مثلاً جب کوئی ڈپٹی کمشنر یا وزیر ، جنگ کے لئے تقریر کرتا ہے تو بے شک لوگ اس وقت دس دس ہیں ہیں ہزار روپیہ چندہ دے دیتے ہیں مگر اس لئے نہیں کہ وہ سمجھتے ہیں خطرہ قریب آ رہا ہے۔بلکہ اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں یہ دس بیس ہزار روپیہ ایسا ہی ہے جیسے بیج ڈالا جاتا ہے۔وہ خیال کرتے ہیں کہ اس کے نتیجہ میں یا تو انہیں کوئی خطاب مل جائے گا یا انہیں آنریری مجسٹریٹ بنا دیا جائے یا ان کے بیٹے کو ہی کہیں ملازم کرادیا جائے گا۔پس وہ خطرہ کی اہمیت کو سمجھ کر قربانی نہیں کرتے بلکہ گورنمنٹ میں عزت اور رسوخ حاصل کرنے کے لئے اپنا روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ان کے علاوہ جو پبلک کے نمائندے ہیں ان میں سے بہت کم ہیں جو سچے طور پر خطرہ کی اہمیت کو سمجھتے ہوں اور جو لوگ سمجھتے ہیں وہ بھی بعض مصالح کی وجہ سے خاموش ہیں۔مثلاً گاندھی جی نے کچھ عرصہ ہوا جنگ کی تائید میں اعلان کیا تھا مگر معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں وہ ڈر گئے اور کسی نے ان سے کہہ دیا کہ گاندھی جی آپ نے یہ کیا مصیبت سہیڑ لی ہے؟ اگر انگریز جیتے تب تو کوئی بات ہی نہیں لیکن اگر جرمنی جیت گیا تو وہ کھال ادھیڑ کر رکھ دے گا۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ اس مو رہیں۔چنانچہ اب ان کی پالیسی یہی ہے کہ وہ نہ انگریزوں کی تائید کرتے ہیں، نہ جرمنوں کی اور سمجھتے ہیں کہ اگر انگریز جیت گئے تو ہم ان سے کہہ دیں گے کہ ہم پر چپ