خطبات محمود (جلد 22) — Page 487
* 1941 487 خطبات محمود جواب دیتا ہوں۔اس نے لکھا ہے کہ اول: تم نے خطبہ میں یہ باتیں بیان کر کے اپنے آپ کو ذلیل کر لیا۔دوم کیا گورنر تم - ورنر تم سے زیادہ شریف نہیں۔پہلی بات جو ہے کہ خطبہ میں اس واقعہ کو بیان کر کے میں نے اپنے آپ کو ذلیل کر لیا۔یہ در حقیقت اس نے اپنے اوپر قیاس کر لیا ہے۔دنیا میں دو قسم کے گروہ ہوتے ہیں۔ایک گروہ تو وہ ہوتا ہے جس کی انسان بے عزتی کر سکتے ہیں۔مگر دوسری قسم کا گروہ وہ ہوتا ہے جس کی انسان بے عزتی نہیں کر سکتے بلکہ اپنے خیال میں لوگ اس کی جتنی زیادہ بے عزتی کرتے ہیں اُتنی ہی زیادہ اس کی عزت بڑھتی ہے۔اس مخلص احمدی ” کو (ہمیں ایک شخص کے متعلق شبہ ہے کہ اس نے یہ ، خط لکھا ہے اور جمعہ سے پہلے میں نے ایک شخص کو وہ خط دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس بارہ میں تحقیق کر کے خطبہ سے پہلے مجھے اطلاع دے۔مگر وہ خط لے کر ہی غائب ہو گیا۔اب وہ بے چارا اپنی تحقیق مکمل کر کے اس وقت آئے گا جب خطبہ ختم ہو جائے گا۔حالانکہ میں نے اسے کہہ دیا تھا کہ اگر پتہ نہ لگے تب بھی جمعہ سے پہلے مجھے خط واپس کر دیا جائے۔مگر خیر اس خط کو چونکہ میں نے دو دفعہ پڑھا ہے اس لئے اس کا مضمون مجھے اچھی طرح یاد ہے ) میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہر ایک نقطہ نگاہ سے عزت کا معیار الگ ہوتا ہے جس گروہ میں وہ شامل ہوتا ہے اس گروہ میں اگر اس کی عزت ہو تو دوسرے کے نزدیک یہ ذلت ہوتی ہے اور اگر وہاں اس کی بے عزتی ہو تو دوسرے کے نزدیک یہ عزت ہوتی ہے۔مثلاً یہی جنگ جو اس وقت جاری ہے۔اس میں جو انگریز جرنیل فاتح ہوتا ہے اس کی عزت انگریزوں کے دلوں میں بہت بڑھ جاتی ہے مگر جرمن اور اٹلی والوں کے نزدیک وہ بڑا مغضوب خطبہ کے بعد تحقیق ہو گئی ہے کہ جس شخص کے متعلق مجھے شبہ تھا وہی خط لکھنے والا تھا اور۔اب اس نے اقرار بھی کر لیا ہے مگر اس بارہ میں میں الگ اعلان کروں گا۔