خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 488

خطبات محمود ہے 488 * 1941 اور اس کو وہ گالیاں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں جرنیل بڑا خبیث ہے اس نے یہ ظلم کئے ہیں۔اس کے مقابلہ میں جرمنوں میں سے جو جرنیل بہادری دکھلاتا اور انگریزوں اور ان کے ساتھیوں کو کسی مقام پر شکست دیتا ہے وہ جرمنوں میں عزت پا جاتا ہے مگر انگریزوں کی نگاہ میں ذلیل ہو جاتا ہے۔اسی طرح روس میں جہاں جہاں جرمن فوجیں پہنچی ہیں وہاں جرمنوں کے نزدیک وہ جرنیل جو شہروں کو تباہ کر رہے ، عمارتوں کو گرا رہے، آبادیوں کو ویران کر رہے اور بڑی بڑی تو پوں اور گولوں اور بموں سے ہر جگہ آگ لگاتے جا رہے ہیں وہ بہت بڑی عزت کے مالک ہیں مگر روسیوں کے نزدیک وہ لوگ جو تباہ ہو رہے ہیں جو جرمنوں کی گولیاں کھا رہے ہیں جن کی لاشوں کے میدانوں اور شہروں میں ڈھیر پڑے ہوئے ہیں وہ عزت کے مستحق ہیں۔تو عزت اور بے عزتی کسی گروہ سے تعلق رکھنے یا نہ رکھنے کے لحاظ سے ہوتی ہے اور ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک گروہ کے نزدیک ایک چیز ذلت کا موجب ہوتی ہے مگر دوسرے کے نزدیک وہی چیز عزت کا موجب ہوتی ہے۔یہی شروع سے دنیا کا حال چلا آیا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام آئے تو شیطان نے انہیں اپنے گھر سے نکلوا دیا اور بڑی بڑی تکلیفیں دیں اور شیطان نے سمجھا کہ اس طرح میری بڑی عزت ہو گی اور آدم ذلیل ہو گا مگر آدم جس گروہ میں سے تھا اس میں اس کی عزت ان تکلیفوں سے اور بھی بڑھ گئی۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ چونکہ آدم نے عزم سے بدی نہیں کی تھی اور چونکہ اسے شیطان کی طرف سے تکلیف پہنچی اس لئے ہم نے اسے بڑی عزت دی۔12 پھر نوح علیہ السلام آئے تو انہیں بھی لوگوں نے بڑے بڑے دکھ دیئے انہیں جھوٹا بھی کہا، انہیں گالیاں بھی دیں، انہیں بُرا بھلا بھی کہا اور لوگوں کے نزدیک ان کی بڑی ذلت ہوئی۔وہ جب دیکھتے کہ نوح کو گالیاں پڑ رہی ہیں، انہیں کافر اور کذاب کہا جا رہا ہے کہتے ہیں کہ خدا ایسا دن کسی کو نہ دکھائے یہ تو بہت ذلیل ہوا ہے مگر نوح علیہ السلام کی یہ حالت تھی کہ ہر پتھر جو اُن پر پڑتا، ہر گالی جو انہیں دی جاتی اسے وہ تو وہ