خطبات محمود (جلد 22) — Page 486
خطبات محمود 486 * 1941 کسی پولیس نے نہیں کیا۔زین العابدین ہے جو اپنے آپ کو ولی اللہ بھی کہتا ہے۔پھر لکھتا ہے پولیس والوں کو کوئی سزاملے یا نہ ملے تم نے خطبہ میں یہ بات بیان کر کے ، کو ہمیشہ کے لئے ذلیل کر لیا ہے۔اگر تمہارے اندر عقل ہوتی تو تم اس بات کو چھپاتے مگر تم نے اس بات کو چھپایا نہیں بلکہ خطبہ میں بیان کر دیا ہے اور اس طرح ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو ذلیل کر لیا ہے۔میں ان باتوں میں سے جو بات اس نے ولی اللہ شاہ صاحب کے متعلق لکھی ہے اسے چھوڑتا ہوں کیونکہ اس کا جواب وہی دے سکتے ہیں۔اس نے کوئی واقعات نہیں لکھے جن سے ان کا ظلم ثابت ہوتا۔پس میرے لئے بھی ضروری نہیں کہ میں اس کا جواب دوں۔البتہ اس نے ایک بات لکھی ہے کہ دفتر والے خطوں کا جواب نہیں دیتے۔ممکن ہے غلطی سے کسی خط کا انہوں نے جواب نہ دیا ہو مگر اس قسم کی جب بھی میرے پاس کوئی شکایت آتی ہے۔میں دفتر والوں سے باز پرس کیا کرتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ خط کا جواب جلد دیا جائے اور جب میں دیکھتا ہوں کہ دفتر کی غلطی کی وجہ سے کسی کی بہت دل شکنی ہوئی ہے۔تو میں اپنے ہاتھ سے اسے خط لکھ کر بھیج دیتا ہوں اور ساتھ ہی معذرت کرتا ہوں کہ دفتر کی وجہ سے آپ کو تکلیف ہوئی ہے۔ممکن ہے ولی اللہ شاہ صاحب کے متعلق بھی اسے کوئی ایسی ہی شکایت ہو مگر بہر حال اس نے چونکہ کوئی واقعہ نہیں لکھا جس سے ان کا ظلم ثابت ہوتا اس لئے اس بارہ میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔اگر ان کے متعلق کوئی الزام قائم کیا جائے تو پھر میں اس کی تحقیق کرا سکتا ہوں اور جاننے والے جانتے ہیں کہ نظارتوں کو میں ہمیشہ ڈانٹتا رہتا ہوں لیکن پھر بھی اگر معین رنگ میں ان پر کوئی الزام قائم کیا جائے تو جیسا الزام ہو گا اس کے متعلق ویسی ہی تحقیق کرنے کے لئے تیار ہوں۔مگر چونکہ اس نے کوئی واقعہ نہیں لکھا اس لئے اس بارہ میں میں کچھ نہیں کہتا۔اگر وہ کوئی واقعات لکھے تو ان کے متعلق ولی اللہ شاہ صاحب ہی جواب دے سکتے ہیں۔میں صرف دو باتیں لے لیتا ہوں اور انہی کا اس خطبہ کے ذریعہ