خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 419

* 1941 419 خطبات محمود جو بڑے ہو کر بھی بعض انسانوں میں قائم رہتی ہے۔مگر اُس وقت تو وہ جن چیزوں کو توڑتا ہے وہ معمولی کھلونے ہوتے ہیں لیکن بڑے ہو کر جن چیزوں کو کھلونا سمجھتے ہوئے توڑنے کی کوشش کرتا ہے وہ بڑی بڑی اہم اور مہتم بالشان ہوتی ہیں اور ان کو توڑنے کی کوشش کرتے ہوئے خود ٹوٹ جاتا ہے گویا اس کی مثال اس چیتے کی سی ہوتی ہے جس نے ایک سل کو دیکھا اور اسے چاٹنے لگ گیا چاہتے چاٹتے اس کی زبان سے خون بہنے لگ گیا اور وہ اس خون کو غذا سمجھ کر چاٹتا گیا یہاں تک کہ اس کی تمام زبان کھائی گئی۔ایسے لوگ بھی سمجھتے ہیں کہ ہم سلسلہ کو تباہ کر دیں گے مگر جب وہ اپنا کام ختم کر کے بیٹھتے ہیں تو انہیں پتہ لگتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ختم کر ہیں لیکن مومن اگر اس قسم کی لغزشوں کے بعد وقت پر توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ ایسے مومن کی مدد کرتا اور اس کا ساتھ دیتا ہے۔” الفضل 20 اگست 1941ء ) 1 بخاری کتاب الوحی باب كيف كان بدء الوحي الى رسول الله 2 پیغام صلح 3 اگست 1937ء صفحہ 3 اشتہار 13 جولائی 1937ء بعنوان جماعت کو خطاب 4 پیغام صلح 30 جولائی 1941ء پیغام صلح 8 جنوری 1941ء 6 اشتہار 13 جولائی 1937ء پیغام صلح 5 مئی 1914ء