خطبات محمود (جلد 22) — Page 420
* 1941 420 26 خطبات محمود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سچے عاشقوں کی والہانہ محبت اور اس کے ایمان افزاء نظارے (فرمودہ 22 اگست 1941ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اس ہفتہ جماعت کو ایک نہایت ہی درد پہنچانے والا اور تکلیف میں مبتلا کرنے والا واقعہ پیش آیا ہے یعنی منشی ظفر احمد صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کے ابتدائی صحابہ میں سے ایک تھے وہ اس ہفتہ میں فوت ہو گئے ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ میں اس وقت ڈلہوزی میں تھا۔جب ان کی نعش یہاں لائی گئی اور میں اس جنازہ میں جو اُن کی لاش پر پڑھا گیا شامل نہیں ہو سکا۔مجھے ایسے وقت میں اطلاع ہوئی جبکہ میں کل صبح ہی آ سکتا تھا۔پہلے تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ تار دوں کہ جنازہ کو اس وقت تک روک لیا جائے جب تک میں نہ پہنچ جاؤں لیکن گرمی کی وجہ سے اور اس خیال سے کہ کہیں اس عرصہ تک روکنے سے نعش کو نقصان نہ پہنچے میں نے تار دینا مناسب نہ سمجھا اور اس بات کو مقامی لوگوں پر چھوڑ دیا کہ اگر نعش رہ سکتی ہے تو وہ میرا انتظار کریں گے کیونکہ انہیں علم ہے کہ میں آنے والا ہوں اور اگر مناسب نہ ہوا تو وہ انتظار نہیں کریں گے۔چنانچہ جب میں یہاں پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ پرسوں رات ہی انہیں دفن کیا جا چکا ہے۔سو میں جمعہ کے بعد اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی ان کا جنازہ پڑھوں گا۔مجھے نہیں معلوم کہ کس حد تک یہاں کے لوگوں کو اس جنازہ کا علم ہوا اور وہ کس حد تک اس میں شامل ہوئے لیکن