خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 418

خطبات محمود 418 * 1941 ہزاروں روپیہ احرار کی تحریک پر صرف کیا ہے۔اگر اس سے نصف بھی آپ ہمیں دیتے تو ہم احمدیوں کو کچل کر رکھ دیتے۔وہ کہتے ہیں۔میرے خسر نے یہ سن کر دلچسپی کے ساتھ باتیں کرنی شروع کر دیں اور دریافت کیا کہ وہ احمدیوں کا کس طرح مقابلہ کرنا چاہتے ہیں اور اس بارہ میں کیا انتظام کرنا چاہئے۔ا ان لوگوں نے ہمیں مٹانے کے لئے بڑی بڑی کوششیں کیں اور احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور نے ہزاروں روپیہ مسلمانوں سے اس غرض کے لئے وصول کیا مگر اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کبھی تو اپنے متعلق یہ فخر کے طور پر کہا کرتے تھے کہ ہم پچانوے فی صدی ہیں اور یہ پانچ فی صدی چنانچہ غیر مبائعین کے چھ سر کردہ احباب نے “ضروری اعلان” کے ماتحت لکھا بھی بمشکل قوم کے بیسویں حصہ نے خلیفہ تسلیم کیا ہے۔7 گویا پانچ فی صدی لوگ ہمارے ساتھ تھے اور پچانوے فی صدی لوگ ان کے ساتھ۔مگر اب پچانوے فی صدی لوگ ہمارے ساتھ ہیں اور پانچ فی صدی ان کے ساتھ۔پھر بھی ان کے یک ہم جھوٹے بھی ہیں جب وہ اپنے آپ کو زیادہ اور ہمیں تھوڑے بتاتے تھے تو کہا کرتے تھے کہ چونکہ ہم زیادہ ہیں اس لئے ہم سچے ہیں اور چونکہ تم تھوڑے ہو اس لئے تم جھوٹے ہو مگر اب چونکہ ہمارے مقابلہ میں وہ تھوڑے ہو گئے ہیں اس لئے کہا کرتے ہیں کہ مومن تھوڑے ہی ہوا کرتے ہیں۔اکثریت گمراہ لوگوں کی ہوا کرتی ہے۔یہ ایک عجیب منطق ہے جس کو وہی سمجھ سکتے ہیں کہ کسی دن ہم اس لئے غلطی پر تھے کہ ہم تھوڑے تھے اور آج ہم اس لئے غلطی پر ہیں کہ ہم زیادہ ہیں۔مگر یہ سب خیالی باتیں ہیں۔ہم نے اپنی آنکھوں سے تجربہ کر کے دیکھ لیا ہے کہ خدائی سلسلہ کو کوئی شخص توڑ نہیں سکتا۔یہ انسان کی اپنی غلطی ہوتی ہے کہ وہ ایک سچائی کو قبول کرتا اور پھر معمولی معمولی شبہات میں مبتلا ہو کر اس کو رد کر دیتا ہے۔اگر وہ سچائی پر سورج کی طرح یقین رکھتا تو ناممکن تھا کہ وہ اسے ماننے کے بعد اس سچائی کو رد کر دیتا۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ وہی بچپن کی عادت ہے