خطبات محمود (جلد 22) — Page 398
خطبات محمود 398 * 1941 جسے پنجابی زبان میں “اروئے ” کہتے ہیں۔یوں تو ان کو اس طرح کی شدید خواہش نہیں ہوا کرتی مگر جب حاملہ ہوتی ہیں کسی ایک چیز کی خواہش جو بعض دفعہ غیر معمولی طور پر مشکل الحصول ہوتی ہے ان کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے اور بعض دفعہ تو وہ خواہش اتنی مضحکہ خیز ہوتی ہے کہ انسان سن کر حیران ہو جاتا ہے۔اگر اس وقت عورت کی وہ خواہش پوری نہ کی جائے تو سو میں سے پانچ سات یا دس کیس ایسے ہوتے ہیں کہ حمل گر جاتا ہے۔بالعموم عورتوں کو کسی نہ کسی کھانے کی خواہش ہوتی ہے مثلاً کبھی ایسا ہو گا کہ وہ کہے گی میرا سیب کھانے کو دل چاہتا ہے اور پھر اس کا دل اتنا چاہے گا اتنا چاہے گا کہ اسے خوشبو بھی سیب کی آئے گی اور کہے گی کہ مجھے کی خوشبو آ رہی ہے اور جب تک اس کی یہ خواہش پوری نہ ہو اس وقت تک قرار اور مضطرب رہے گی۔دوسرے ملکوں میں یہ بات ہے یا نہیں مگر ہمارے ملک میں بالعموم عورتوں کو ایام حمل میں مٹی کھانے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔پھر اس کی بھی کئی قسمیں ہیں۔کسی کو اس جگہ کی مٹی اچھی لگتی ہے جہاں کیچڑ نیا نیا لیپا گیا ہو، کسی کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ چولھے کی مٹی کھائے، کسی کا یہ جی چاہتا ہے کہ اگر کوئی کچا آبخورہ ہو تو اس کی ٹوٹی ہوئی مٹی کھاؤں۔حتی کہ چند دن ہوئے ایک شخص سے میں نے سنا جس سے مجھے سخت حیرت ہوئی کہ ایک عورت نے ایام حمل میں گتے کو پاخانہ چاٹتے دیکھا او راس کا جی چاہا کہ وہ بھی اسی طرح کوئی چیز کھائے۔چنانچہ اس کے دل میں اس کی اتنی شدید خواہش پیدا ہوئی کہ اس نے چولہا بنا کر اور اس میں کڑھی ڈال کر گتے کی طرح چاٹی۔میں سمجھتا ہوں بچے کے دل میں چونکہ شدید خواہش ہوتی ہے اور جب وہ کسی چیز کے پیچھے تو اسے چھوڑتا نہیں۔اس لئے ماں کے دل میں بھی بچے جیسی خواہش پیدا ہو جاتی ہے اور ایام حمل میں بچہ کے اثرات کی وجہ سے ماں بھی بچہ بن جاتی ہے۔بچوں کے دل میں جب وہ چھوٹے ہوتے ہیں کھلونے کی اتنی شدید خواہش ہوتی کہ بعض دفعہ اس خواہش کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے وہ بیمار ہو کر مر جاتے ہیں۔ہے غرض ہے