خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 397

* 1941 397 (25) خطبات محمود دل کا اطمینان کر کے سچائی کو قبول کرو اور قبول کرنے کے بعد استقلال سے کام لو ) فرمودہ 8 اگست 1941ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: “انسانی فطرت میں یہ امر داخل ہے کہ جب کبھی اس کے دل میں کوئی جوش پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنے ماحول کے باہر سب چیزوں کو بالکل بھول جاتا ہے اور اس وقت اسے صرف یہی نظر آتا ہے کہ جو چیز میرے سامنے ہے۔بس دنیا کی ساری خوبیاں اور ساری ترقیاں یا سارے تنزل اور ساری تباہیاں اسی سے وابستہ ہیں۔گویا بچپن کی یہ خصلت بڑے ہو کر بھی انسان میں موجود رہتی ہے کہ جب کسی کھلونے بچے کا دل آتا ہے تو اس وقت وہ یہ سمجھتا ہے کہ بس اس کھلونے کے ملے بغیر میری زندگی ناممکن ہے۔وہ روتا ہے، وہ چڑتا ہے وہ ماں کے ساتھ لڑتا ہے۔وہ باپ سے اصرار کرتا ہے کہ بس مجھے یہ کھلونا مل جائے اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اگر وہ کھلونا اس کو نہ ملے تو اسے بخار چڑھ جاتا ہے بلکہ بعض دفعہ تو بچے بیمار ہو کرمر جاتے ہیں جب ان کی کوئی خواہش پوری نہ ہو۔اور بچے کی یہ کھلونے کی خواہش اتنی زبر دست ہوتی ہے کہ ہم تو دیکھتے ہیں بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو ماں بھی بچہ بن جاتی ہے۔ایام حمل میں ماؤں کو ایک شدید خواہش پیدا ہوتی ہے