خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 399

* 1941 399 خطبات محمود وہ اس مگر دوسری طرف ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ان کے ماں باپ جب انہیں کھلونا لے دیتے ہیں تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ انہیں سنبھال کر رکھیں، ان کی قدر دانی کریں اور سمجھیں کہ ان کی وہ خواہش جس کے لئے انہوں نے گھر بھر کو سر پر اٹھایا ہوا تھا۔کھلونے کے ذریعہ پوری ہوئی ہے تو وہ اسے احتیاط سے رکھیں بلکہ اسی وقت اسے توڑنے لگ جاتے ہیں اور بعض دفعہ تو آدھ گھنٹہ بھی نہیں گزرتا کہ وہ کھلونے کو اٹھا کر پرے پھینک دیتے ہیں اور ماں سے کہتے ہیں ہمیں یہ مطلوب نہیں۔یہی فطرت بعض انسانوں میں بھی جب ان کی صحیح تربیت نہیں ہوتی جوانی کے ایام میں بھی پائی جاتی ہے۔وہ بڑے ہو جاتے ہیں مگر فطرتا بچے ہی ہوتے ہیں جب دنیا میں مختلف کام ان کے سامنے آتے ہیں تو کوئی نہ کوئی خواہش ان کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے۔اس وقت وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کی خواہش جائز ہے یا ناجائز، پسندیدہ ہے یا ناپسندیدہ بلکہ وہ دیوانہ وار اس کے حصول میں لگ جاتے ہیں اور بسا اوقات جب وہ چیز ان کو حاصل ہو جاتی ہے تو اس کے بعد انہیں اس کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں رہتی بلکہ بعض دفعہ تو اس کے ساتھ ایک قسم کی نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ہمارے قادیان میں ایک دوست ہیں۔ہم چھوٹے ہوتے تھے تو وہ نیم مجنون ہونے کی حالت میں قادیان آئے اور انہیں مدرسہ میں لڑکوں کو پڑھانے پر لگا دیا گیا۔میرے ایک ساتھی نے مجھے ایک دفعہ خاص طور پر ان کے متعلق بتایا کہ انہیں جنون ہے کہ وہ ایک خاص لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر اس جگہ میری شادی نہ ہوئی تو بس تباہی آ جائے گی۔پھر اس کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ روزانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو رقعے لکھتے کہ دعا کریں میری اس جگہ شادی ہو جائے۔حضرت خلیفہ اول ان کا علاج بھی کرتے دوست ان سے تمسخر بھی کرتے اور انہیں منع بھی کرتے۔مگر ان کا جنون نہ جانا تھا نہ گیا۔آخر ان کی شادی ہوئی اور وہیں ہوئی جہاں وہ چاہتے تھے۔پھر اس عورت سے رہے اور