خطبات محمود (جلد 22) — Page 329
* 1941 330 خطبات محمود تھے وہ مسئلہ کفر و اسلام پر ایمان رکھنے کے ذریعہ ، وہ خلافت کو تسلیم کرنے کے ذریعہ، وہ نبوت پر ایمان رکھنے کے ذریعہ اپنے ایمان میں رخنہ ڈال کر کافر بن ہیں۔رہ گئے عام مسلمان، سو ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے فتویٰ موجود ہے کہ وہ صرف ظاہری مسلمان ہیں گویا کوئی بھی مسلمان نہ رہا اور پیشتر اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو ماننے والوں کی ایک نسل بھی فوت ہوتی وہ سب کے سب کافر بن گئے اور راہِ ہدایت سے دور جا پڑے۔کیا کوئی بھی عقل مند مان سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ عظیم الشان الہام جس پر خدا کا مسیح فخر کرتا اور فرماتا ہے کہ “میرے لئے یہ شکر کی جگہ ہے کہ میرے ہاتھ پر چار لاکھ کے قریب لوگوں نے اپنے معاصی اور گناہوں اور شرک سے توبہ کی۔” اس رنگ میں صحیح سمجھا جا سکتا ہے؟ اس صورت میں تو شکر ادا کرنے کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے کیونکہ جب سب کافر بن گئے تو شکر کس بات کا ہوا؟ پھر ہم دیکھتے ہیں اسی کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔66 ނ پانی خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا۔اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُو سے سب کا منہ بند کر دیں گے۔اور ہر ایک قوم اس چشمہ پٹے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔بہت سی روکیں پیدا ہوں گی اور ابتلاء آئیں گے مگر خدا سب کو درمیان سے اٹھادے گا اور اپنے وعدہ کو پورا کرے گا۔اور خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔سو اے سُننے والو! ان باتوں کو یاد رکھو۔اور ان پیش خبریوں کو اپنے