خطبات محمود (جلد 22) — Page 328
* 1941 329 خطبات محمود ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا فتویٰ موجود ہے کہ وہ صرف ظاہری مسلمان ہیں۔اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ ہم پر تو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ نے کروڑوں مسلمانوں کو کافر اور دائرہ اسلام۔دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا ہے حالانکہ ہم نے اگر کروڑوں کو کافر کہا تھا تو ان کروڑوں میں سے چار لاکھ کی جماعت کو الگ بھی کر لیا تھا اور ان کے متعلق ہمارا یہ دعویٰ تھا کہ وہ حقیقی مسلمان ہیں۔مگر ان کی یہ حالت ہے کہ انہوں نے سوائے اپنے دو چار ہزار آدمیوں کے باقی سب کو کافر بنا دیا۔وہ جو عام مسلمان تھے ان کے متعلق تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فیصلہ فرما دیا کہ وہ حقیقی مسلمان نہیں صرف ظاہری مسلمان ہیں۔اور جو آپ کے ہاتھ پر حقیقی مسلمان بنے تھے انہیں پیغامیوں نے کافر قرار دے دیا۔گویا اب کوئی بھی مومن نہ رہا سوائے چند ہزار پیغامیوں کے۔پھر عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے۔چو دورِ خسروی آغاز کردند مسلماں را مسلمان باز کردند یعنی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ آئے گا تو مسلمانوں کو دوبارہ مسلمان کیا جائے گا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام اس کے معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ظاہری مسلمان میرے ہاتھ پر حقیقی مسلمان بننے لگے ہیں جیسا کہ اب تک چار لاکھ کے قریب بن چکے ہیں مگر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جن لوگوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ہاتھ پر مسلمان ہونے کی پیشگوئی تھی وہ تو اس لحاظ سے کافر ہوئے کہ انہوں نے آپ کو قبول نہ کیا اور جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ہاتھ پر مسلمان بن چکے تھے وہ دوسروں کو کافر قرار دے کر خود پکے کافر بن گئے۔اب سوال یہ ہے کہ جب دونوں ہی کافر ہو گئے تو یہ الہام کس طرح پورا ہوا اور اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے ثبوت میں پیش کس طرح کیا جا سکتا ہے؟ مولوی محمد علی صاحب تو ہمیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر جو لوگ حقیقی مسلمان بنے