خطبات محمود (جلد 22) — Page 157
خطبات محمود 158 1941 کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نبی نہیں تھے۔تو ایمان میں بگاڑ بھی پیدا ہو جاتا ہے اور مومنوں کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ ایمان کو زور سے قائم رکھیں۔ایمان صرف خدا ہی قائم نہیں رکھتا بلکہ انسان کی اپنی جد و جہد کا بھی اس میں دخل ہوتا ہے۔جب تک کسی کے اندر ایمان رہتا ہے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایقان کی صورت بھی پیدا ہوتی رہتی ہے اور جب کسی کا ایمان متزلزل ہو جاتا ہے تو ایقان کی صورت بھی جاتی رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ انسان ایک وقت تو سمجھتا ہے کہ اگر میرے جسم کی بوٹیاں بوٹیاں بھی اڑا دی جائیں تو میں اپنے عقیدہ کو نہیں چھوڑ سکتا مگر دوسرے وقت یہ حالت نہیں رہتی۔صاف پتہ لگتا ہے کہ کوئی چیز ہوتی ہے جو غائب ہو جاتی ہے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت پر مصری صاحب کو جو پہلے ایمان تھا یا مولوی محمد علی صاحب کو جو پہلے ایمان تھا اس کی موجودگی میں وہ یہ کس طرح کہہ سکتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی نہیں یا ایسے ہی ہیں جیسے باقی مجدد ہیں یا یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ ایک وقت تو کہتے کہ خلافت ضروری ہے اور حضرت خلیفہ اول کی بیعت بھی کرتے مگر دوسرے وقت کہہ دیتے کہ خلیفہ کی کوئی ضرورت نہیں۔آخر جو حالات پہلے تھے وہ تو نہیں بدل گئے، جو حوالجات پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کو ثابت کر رہے تھے اب بھی موجود ہیں اور جس ضرورت کی بناء پر حضرت خلیفہ اول کی خلافت کو تسلیم کیا گیا تھا وہی اب بھی ہے پھر جبکہ حالات وہی ہیں اور ان کے عقائد وہ نہیں ہیں تو معلوم ہوا کہ ان کے دل کی حالت ہی بدل گئی ہے اور خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں سے وہ یقین نکال لیا ہے جو ایمان کا نتیجہ ہوتا ہے۔پس ایمان کی حفاظت کرنا بندوں کا بھی کام ہے۔اس شخص سے زیادہ کوئی جاہل اور احمق نہیں جو یہ کہے کہ یہ خدا کی چیز ہے اور خدا اس کی آپ حفاظت کرے گا۔یہ ایک خطرناک نادانی ہے جب خدا نے ایک چیز کی حفاظت ہمارے سپرد کی ہے اور ہم اس کی حفاظت نہیں کرتے تو ہم غدار اور باغی ہیں نہ کہ خدا تعالیٰ پر توکل کرنے والے۔وہ