خطبات محمود (جلد 22) — Page 158
خطبات محمود 159 1941 پس احمدیت چاہتی ہے کہ ہم ہر قسم کی قربانی کریں۔آجکل جنگ کی وجہ سے چونکہ خطرہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اس لئے قربانیوں میں بھی پہلے سے بہت زیادہ حصہ لینے کی ضرورت ہے مگر ہمارے پاس کون سے ہوائی بیڑے ہیں کہ جن سے ہم اس خطرہ کو دور کر سکتے ہیں۔ہمارے پاس نہ فوجیں ہیں، نہ تو ہیں ہیں، نہ ہوائی جہاز ہیں، نہ گولہ بارود ہے۔ہمارے پاس صرف دعا کا ہتھیار ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سے بڑا ہتھیار اور کوئی نہیں بشرطیکہ دعا اخلاص کے ساتھ کی جائے، بشر طیکہ انسان کے دل میں تڑپ ہو اور بشر طیکہ اسے یہ فہم ہو کہ احمدیت خطرے میں ہے۔اگر یہ حالت ہو تو دعاؤں کی قبولیت بہت زیادہ یقینی ہوتی ہے لیکن یونہی ہاتھ اٹھا لینا یا زبان سے چند الفاظ کہہ دینا دعا نہیں ہوتی۔ایسی دعا انسان کے ٹمنہ پر ماری جاتی ہے۔پس اس خطرہ کے زمانہ میں میں پھر جماعت کے دوستوں کو ہوشیار کرتا ہوں اور انہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ دعاؤں میں مشغول ہو جائیں۔حکومت کی طرف سے ہندوستان میں دعا کے لئے ایک دن مقرر کیا گیا ہے اس دن بھی بے شک جلسہ کر لیا جائے اور دعائیں مانگی جائیں لیکن وہ دن اتوار کا ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنی دعا کے لئے بھی اتوار کو ہی مخصوص کریں۔اگر عیسائی اس دن کو مقدس سمجھتے ہیں تو یہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ ہم بھی اسی دن کو ترجیح دیں۔اور میں تو سمجھتا ہوں اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں عیسائیوں سے صاف طور پر کہہ دینا چاہئے کہ ہمارا مذہبی احترام جمعہ کے ساتھ وابستہ ہے اور اگر وہ ہمارا تعاون حاصل کرنا ہتے ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ ہمارے مذہبی احساسات کو ملحوظ رکھیں۔مگر حالت ہے کہ پنجاب میں جہاں مسلمانوں کی آبادی باقی تمام اقوام سے زیادہ ہے اور جس کا وزیر اعظم بھی مسلمان ہے جس کے متعلق ہندو یہ شور مچاتے رہتے ہیں کہ وہ ہندو کش ہے اس پنجاب میں مسلمانوں کو جمعہ کی نماز کے لئے بھی عام چھٹی نہیں دی جاتی۔آخر اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ یہ حقارت کا سلوک کب تک چلا جائے گا