خطبات محمود (جلد 22) — Page 156
* 1941 157 خطبات محمود کے جلسہ پر انہوں نے تقریر کی جس میں کہا کہ مرزا صاحب اور پہلے اولیاء امت کی نبوت ایک سی ہے صرف زیادہ اور تھوڑے نمبروں کا فرق ہے۔پھر یہی وہ شخص تھا جس نے کہا تھا کہ میں مسئلہ خلافت کے خلاف نہیں صرف نئے خلیفہ کے انتخاب پر میں زور دیتا ہوں۔مگر اب وہی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ خلافت کوئی چیز نہیں۔آخر وجہ کیا ہے کہ میری عداوت کی وجہ سے ان کا مذہب بدل گیا اور ان کے عقائد میں ایسا عظیم الشان تغیر پیدا ہو گیا۔قرآن نہیں بدلا، حدیثیں نہیں بدلیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں نہیں بدلیں۔وہی آیات جو پہلے قرآن میں موجود تھیں اب بھی ہیں، وہی حدیثیں جن سے پہلے اجرائے نبوت ثابت جاتی تھی اب بھی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہی تحریریں جن سے پہلے خلافت کا مسئلہ ثابت ہوتا تھا اب بھی ہیں پھر وجہ کیا ہے کہ ان کے عقائد بدل گئے اور میری مخالفت کی وجہ سے انہیں قرآن کے بھی اور معنے نظر آنے لگ گئے، حدیثوں کا بھی اور مفہوم دکھائی دینے لگ گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں کا بھی کچھ اور مطلب بتایا جانے لگا۔آخر یہ کیا بات ہے کہ قرآن کی وہ حصہ آیتیں جن سے پہلے وہ ہماری تائید میں استدلال کیا کرتے تھے اب ان کے معنے ان کے نزدیک کچھ اور ہو گئے ہیں اور وہی حدیثیں جن سے پہلے ہمارے دعاوی کی تصدیق کی جاتی تھی اب ان کا مفہوم ان کے نزدیک کچھ اور ہو گیا ہے۔صاف پتہ لگتا ہے کہ ان کے دل کے زنگ کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا کہ نیکی کا ایک جب انہوں نے خود چھوڑ دیا ہے تو نیکی کا دوسرا حصہ جو اعتقاد کے ساتھ تعلق رکھتا ہے وہ ہم چھڑا دیتے ہیں جیسے فرماتا ہے طَبَعَ الله عَلى قُلُوبِهِمْ -5 یہی پیغامیوں کا حال ہے۔انہوں نے بھی اپنی تحریروں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بار بار نبی، مقدس نبی، برگزیده رسول اور نجات دہندہ وغیرہ لکھا بلکہ پیغمبر آخر الزمان اور نبی آخر الزمان“ 6 کے الفاظ بھی آپ کے متعلق استعمال کئے جو ہم بھی استعمال نہیں کرتے مگر اب ان کا سارا زور اس بات پر صرف ہو رہا ہے