خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 581

خطبات محمود 581 ہر * 1941 وقت حرام ہو گئیں۔مگر اس وقت جو جہنم کھل گئی ہے اس کا ذرا اندازہ کرو۔روس میں لڑائی شروع ہوئے قریباً چار ماہ کا عرصہ ہو گیا ہے اور اس عرصہ میں ایک دن بھی تو کسی کو آرام سے سونا نصیب نہیں ہو سکا۔آرام کی نیند تو کوئی اسی صورت میں سو سکتا ہے کہ میدان سے ڈیڑھ دو سو میل پیچھے ہٹ کر سوئے کیونکہ اگر بارہ گھنٹے کی بھی رات ہو تو ٹینکوں کے راتوں رات چھیانوے بلکہ ایک سو آٹھ میل تک تو پہنچ جانے کا احتمال رہتا ہے اور اتنے فاصلہ تک تو اطمینان کی نیند نہیں آ سکتی کیونکہ خطرہ رہتا ہے کہ معلوم نہیں کب ہمارا مورچہ ٹوٹ جائے اور دشمن کے ٹینک آگے بڑھ آئیں۔پھر ٹینکوں کے علاوہ ہوائی جہاز ہیں۔گو ان کے حملوں سے ایسی تباہی نہیں ہوتی کیونکہ وہ کسی کسی جگہ بم پھینکتے ہیں اور بیچ میں بڑے بڑے شگاف رہ جاتے ہیں مگر پھر بھی ان کے حملوں کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔لنڈن پر جن دنوں ہوائی حملے ہوتے تھے لوگ ہر شب خندقوں میں جا کر بسر کرتے تھے اور جو گھروں میں بھی سوتے وہ معمولی بستر لے کر سوتے تھے اور جو نہی حملہ کا الارم ہوتا بستر بغل میں دبا کر پناہ گاہ میں چلے جاتے اور ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں آرام اپنا کام کاج کرنا تو الگ رہا، سونے کا موقع نہیں مل سکتا۔بلکہ کھانے پینے کا بھی نہیں۔وہاں لڑنے والے کتنی تکلیف کے ساتھ کھاتے پیتے ہوں گے۔اول تو ہر جگہ اشیائے خورد و نوش کا پہنچنا مشکل ہے۔بعض جر من سپاہی جب پکڑے گئے تو معلوم ہوا وہ چھ سات روز کے بھوکے تھے۔جو فوجیں اپنے مرکز سے ہزار دو ہزار میل کے فاصلہ پر لڑ رہی ہوں ان تک ہر روز کھانے پینے کا سامان پہنچانا کتنا مشکل ہے۔ذرا سوچو تو سہی کہ قادیان والوں کو پشاور میں لے جا کر کھانا کھلانا پڑے تو کیا حال ہو۔بے شک لاریاں اور موٹریں ہیں مگر پھر بھی سپلائی کے انتظام میں خلل پڑ سکتا ہے۔اپنے جلسہ سالانہ پر ہی قیاس کر لو۔میں نے دیکھا ہے کہ اگر چند سو یا ہزار لوگوں کو کھانا ملنے میں دیر ہو جائے تو ہمیں سخت پریشانی ہوتی ہے۔میری طرف سے دفتر کو اور دفتر کو میری طرف رقعہ پر رقعہ بھجوانا پڑتا ہے۔انسپکٹر ادھر سے ادھر دوڑتے