خطبات محمود (جلد 22) — Page 582
* 1941 582 خطبات محمود ہیں، نگران عملہ پریشان ہوتا ہے اور بعض دفعہ گھنٹوں میں جا کر اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔روس اور جرمنی کی اس جنگ میں بعض اوقات پچاس پچاس لاکھ سپاہیوں نے حصہ لیا ہے۔ایک کروڑ سپاہیوں کو مرکز سے ہزار میل کے فاصلہ پر کھانا پہنچانا کس قدر مشکل ہے اس کا اندازہ کرو۔پھر کئی لوگ لشکر سے الگ بھی ہو جاتے ہیں۔بیچ میں دشمن گھس آتا ہے اور اس طرح ان تک تو کھانے پینے کی کسی چیز کا پہنچانا نا ممکن ہو جاتا ہے۔گویا جو لوگ اس لڑائی میں شریک ہیں۔ان کے لئے اپنا کوئی کام کرنا تو الگ رہا کھانا پینا بھی مشکل ہوتا ہے مگر پھر بھی لڑائی جاری ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ ہمیں اس نے اجازت دی ہے کہ اپنے کام کاج بھی کرو، تجارت اور زمینداری بھی کرو، کھاؤ پیو بھی اور پھر کچھ وقت نکال کر شیطان کے ساتھ جنگ بھی کرو۔گو رسول کریم صلی الیوم بلکہ تمام پہلے انبیاء نے خبر دی ہے کہ لڑائی پچھلی تمام جنگوں سے زیادہ خطرناک ہے لیکن اس کے لئے بہت تھوڑا وقت لگانا پڑتا ہے۔مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم سے بہت ہیں جو پھر بھی پرواہ نہیں کرتے۔رو۔میں نے نہایت افسوس کے ساتھ دیکھا ہے کہ بعض احمدی ابھی ایسے ہیں تو سچ بولتے ہیں مگر جب ان پر یا ان کی اولاد یا رشتہ داروں پر کوئی الزام آئے یا کوئی اعتراض ہو تو جھوٹ بولنے لگ جاتے ہیں اور لوگوں پر رعب ڈالتے ہیں کہ ہمارے حق میں گواہی دو۔حالانکہ قرآن کریم کی تعلیم یہ ہے کہ گواہی ہمیشہ سچی د خواہ وہ تمہارے نفسوں پر ہو یا تمہارے ماں باپ یا اولاد پر ہو۔2 ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے سپاہی ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں۔وہ تو اس وقت شیطان کے سپاہی ہوتے ہیں۔خدا کا سپاہی تو وہ ہے جو کسی حالت میں بھی صداقت کو نہ چھوڑے بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں کوئی اتنی بڑی سزا بھی نہیں ہو سکتی مگر پھر بھی میں نے دیکھا ہے کہ بعض احمدی ایسے ہیں کہ جب ان کے بیٹے پر یا بھائی پر یا باپ پر