خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 580

* 1941 خطبات محمود 580 وہ لڑائی بہت زیادہ اہم ہونی چاہئے جو اخلاق یا اصول کے لئے اپنے نفس یا شیطان کے ساتھ لڑنی پڑے۔لڑائی جو اس وقت روس میں ہو رہی ہے۔کیا تم سمجھتے ہو کہ وہاں لڑنے والے لوگ رات کو آرام سے سو جاتے ہوں گے یا وہاں اپنا کاروبار کرتے رہتے ہوں گے۔کوئی وہاں چھابڑی اٹھائے پھرتا ہو گا، کوئی گنڈیریاں بیچتا ہو گا، کوئی کپڑا فروخت کرتا ہو گا۔وہاں تو ایک منٹ کی فرصت نہیں ملتی۔بعض خبروں سے پایا جاتا ہے کہ سپاہیوں کو چھ چھ سات سات دن سونے کا موقع نہیں ملتا۔ذرا غور کرو جہاں اتنے ٹینک ہوں او ر جہاں سینکڑوں ہزاروں موٹریں اور لاریاں حملہ کرنے کے لئے سے اُدھر پھر رہی ہوں۔وہاں اگر کوئی فوج سونا چاہے بھی تو کیسے سو سکتی ہے اور کتنا پیچھے ہٹ کر سو سکتی ہے۔ٹینکوں کی رفتار بہت تھوڑی ہوتی ہے پھر بھی وہ آٹھ نو میل فی گھنٹہ چلتے ہیں۔گویا چار گھنٹے میں وہ 36 میل تک بڑھ جاتے ہیں۔اب اگر کسی فوج کو چار گھنٹے آرام کا وقت مل بھی جائے تو وہ کہاں اتنا پیچھے ہٹ کر سو سکتی ہے کہ جہاں کم سے کم اس عرصہ میں ٹینکوں کے پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو۔فرض کرو کسی محاذ پر ایک ہزار سپاہی لڑتے ہیں۔ان میں سے اگر پانسو کو فارغ بھی کر دیا جائے کہ کچھ وقت آرام کر لیں تو وہ کتنا پیچھے ہٹ کر سو سکتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ سو دو سو گز پیچھے ہٹ کر سو سکتے ہیں۔اب اگر وہ اتنے فاصلہ پر سونے کی کوشش بھی کریں تو نیند نہ آئے گی کیونکہ یہی دھڑکا رہے گا کہ ابھی ٹینک آئیں گے اور ہمارے اوپر سے گزر جائیں گے اور اگر چار گھنٹے آرام کا وقت ہو تو ایک دو گھنٹے تو اسی ادھیڑ بن میں گزر جائیں گے پھر جہاں اتنے زور سے تو ہیں چل رہی ہوں وہاں نیند کیسے آسکتی۔پہلے زمانہ کی لڑائیاں ایسی نہ ہوتی تھیں بلکہ لڑائی صبح شروع ہو کر شام کو ختم ہو جاتی تھی۔صحابہ کرام کی لڑائیوں میں سے غزوہ خندق سب سے لمبی تھی اور۔پندرہ روز تک رہی تھی اور صحابہ شکایت کرتے تھے کہ اس لڑائی میں ہماری نیندیں ہے۔