خطبات محمود (جلد 22) — Page 52
$1941 52 خطبات محمود نہیں چاہتے، ہم ان سے کسی غیر پر ظلم کرنے کا مطالبہ نہیں کرتے ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ ہم سے بھی وہی سلوک کرو جو تم غیروں سے کرتے ہو اور اگر اس مطالبہ کے بعد بھی وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں تو تم مت گھبراؤ اور تسلی رکھو کہ ہم سب کے سروں پر ایک اور عظیم الشان بادشاہ موجود ہے اور وہ اتنا بڑا بادشاہ ہے کہ اس کے سامنے یہ دنیوی حکام اتنی حیثیت بھی نہیں رکھتے جتنی ایک نوکر آقا کے سامنے رکھتا ہے۔وہ خود ان سے بدلہ لے گا اور ایسا لے گا کہ یہ تو کیا ان کی اولادیں تک بھی اس کی چوٹ کی شدت سے چلائیں گی۔پس یہ ایک ضروری بات تھی جس کے متعلق خطبہ میں میں نے جماعت کو ہدایت دینا مناسب سمجھا کیونکہ جماعت کے افسر جو مجھ سے ملتے ہیں ان کی طبیعت میں بھی میں جوش دیکھتا ہوں اور لوگوں کے متعلق بھی میں محسوس کر رہا ہوں کہ ان کی طبائع میں جوش ہے۔میں ان سب سے کہتا ہوں کہ یہ جوش دکھانے کا وقت نہیں تم اس وقت اپنے دانتوں تلے زبان دے کر بیٹھ جاؤ اور اپنی ساری طاقت موجودہ جنگ میں فتح حاصل کرنے کے لئے صرف کر دو۔جو مال دے سکتا ہے وہ مال دے اور جو فوج میں بھرتی ہو کر یا والنٹیرز دے کر مدد کر سکتا ہے وہ ہے وہ فوج میں بھرتی ہو کر اور والنٹیرز بہم پہنچا کر مدد کرے۔اگر ان امور کی طرف توجہ کرنا ضروری ہوا تو جنگ کے بعد دیکھا جائے گا۔کہتے ہیں یار زندہ صحبت باقی۔یہ وزراء بھی بھی ابھی باقی ہیں، حکام بھی ابھی باقی ہیں اور افسر بھی ابھی باقی ہیں۔اور ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے باقی ہوں گے بلکہ ہم تو ہر سال پہلے سے زیادہ طاقتور ہوتے جائیں گے مگر موجودہ وقت شور کرنے کا نہیں۔اگر اس وقت بعض حکام تمہارا حق غصب بھی کرتے ہیں تو جس طرح اس ماں نے کہہ دیا تھا کہ میرا بچہ نہیں اسی طرح تم بھی کہہ دو کہ ہمارا کوئی حق نہیں۔" (الفضل 9 فروری 1941ء)