خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 51

$1941 51 خطبات محمود مبر کر لیں گے کہ اب جو کچھ ان کی مرضی میں آئے وہ کر سکتے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ وہ ایسا کب تک کرتے چلے جائیں گے۔یہ دنیا نہ پنجاب کے وزراء کے قبضہ میں ہے نہ پنجاب کے گورنر کے قبضہ میں ہے، نہ وائسرائے کے قبضہ میں ہے، نہ وائسرائے کی کونسل کے قبضہ میں ہے، نہ انگلستان کے قبضہ میں ہے نہ انگلستان کی پارلیمنٹ کے قبضہ میں ہے۔اسی طرح نہ انگلستان کے بادشاہ کے قبضہ میں ہے نہ جرمنی کے قبضہ میں ہے اور نہ اٹلی کے قبضہ میں ہے بلکہ یہ اس خدا کے قبضہ میں ہے جو آسمان و زمین کا مالک ہے اور جس کی مٹھی میں دنیا کی ہر چیز ہے۔وہ ہمارے کو آسمان پر سے دیکھے گا اور ہمیں اس صبر کی جزا دے گا۔مگر جس دن ہمارا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا جس دن اس نے سمجھا کہ حکام ہمارے صبر سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں اس دن وہ انہیں آسمانی ہتھیاروں سے خود ہی مروڑ کر رکھ دے گا۔پس تم گھبراؤ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو کیونکہ اس وقت صرف انگریزوں کی ہستی نہیں، صرف ہندوستان کی ہستی ہی نہیں بلکہ تمام دنیا کی ہستی خطرہ میں ہے۔اگر تم روپیہ سے مدد دینے کی طاقت رکھتے ہو تو روپیہ سے مدد دو۔اگر فوج میں بھرتی ہو سکتے ہو تو فوج میں بھرتی ہو جاؤ اور اگر ان دونوں طریقوں میں سے کسی طریق بر بھی عمل نہیں کر سکتے تو اللہ تعالیٰ سے اس جنگ کے بُرے اثرات کے دور ہونے دعائیں کرو اور خوب کرو۔باقی رہے ایسے حکام سو ان کو یا تو ان کے حال پر چھوڑ دو یا پھر خود کوئی قدم اٹھانے کی بجائے ان کے متعلق بھی دعا کرو کہ یا تو خدا تعالیٰ ان کے دلوں کو بدل کر ان کی اصلاح کر دے یا پھر جس طرح خدا تعالیٰ کا عذاب آتا ہے تو وہ آعِزّة کو آذِلّة بنادیتا ہے اور جو لوگ تکبر سے اکٹراکٹر کر چلتے ہیں ان کے لئے اپنی کمر سیدھی کرنی بھی مشکل ہو جاتی ہے۔اسی طرح وہ ان کے ساتھ سلوک کرے۔ہی پس یہ مت خیال کرو کہ تمہارا صبر رائیگاں جائے گا۔اسی طرح حکام یہ مت خیال کریں کہ وہ ہم پر ظلم کر کے سکھ پا سکتے ہیں۔ہم ان سے بے انصافی