خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 50

خطبات محمود 50 $1941 اس بچے کو کاٹنے لگے تو وہ جو اس بچہ کی اصلی ماں تھی چلا اٹھی کہ بچے کو نہ ماریں۔میں نے دراصل جھوٹ بولا تھا بچہ میرا نہیں بلکہ اس کا ہے اور دوسری کہنے لگی انصاف یہی ہے کہ بچے کو آدھا آدھا تقسیم کر دیا جائے۔یہ دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے بچے کو اٹھایا اور اس عورت کی گود میں ڈال دیا جس نے کہا تھا کہ یہ ا بچہ نہیں میں نے جھوٹ بولا تھا اور جس نے کہا تھا بچے کو کاٹ کر نصف نصف کر دیا جائے اس کے خلاف فیصلہ دیا۔تو سچے خیر خواہ کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے نقصان کو برداشت کر لیتا ہے مگر جس سے محبت ہوتی ہے اس کے متعلق یہ پسند نہیں کر سکتا کہ اسے کوئی تکلیف پہنچے۔اسی طرح ہم ملک اور حکومت کے خیر خواہ ہیں مگر اس قسم کے حکام ملک اور حکومت کے بد خواہ ہیں۔اس وقت ہمارا کام یہی ہے کہ ہم کہہ دیں کہ ہمارا کوئی حق نہیں انہی کا حق ہے کہ جلوس نکالیں، انہی کا حق ہے کہ کلہاڑیاں، تلواریں اور چھریاں لے کر جلوس نکالیں اور انہی کا حق ہے کہ کلہاڑوں، تلواروں اور چھریوں کو ہلاتے ہوئے احمدی آبادی میں سے گزریں۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم لڑائی کے ختم ہونے تک اس قسم کے تمام جھگڑوں کو بالائے طاق رکھ دیں کیونکہ بنی نوع انسان کی ہمدردی اس بات کا تقاضا کرتی ہے اور خدائی جماعتوں سے بڑھ کر ہمدردی اور کسی میں نہیں ہو سکتی۔ہمیں خدا تعالیٰ نے دنیا میں اس لئے کھڑا کیا ہے کہ ہم سب سے بڑھ کر بنی نوع انسان کی ہمدردی کا نمونہ دکھائیں اور ہم انگلستان کے اس سے بھی زیادہ خیر خواہ ہوں جتنا ایک انگریز انگلستان کا خیر خواہ ہو اور ہم ہندوستان کے اس سے بھی زیادہ خیر خواہ ہوں جتنا کوئی دوسرا ہندوستانی ہندوستان کا خیر خواہ ہو سکتا ہے۔اگر ہم ایسا کریں تو ہر انسان تسلیم کرے گا کہ دنیا کے سچے خیر خواہ ہم ہیں اور یہ کہ ہم اگر سگی ماں ہیں تو وہ سوتیلی ماں ہیں۔کیونکہ ہم ہی ہیں جو فساد نہیں ہونے دیتے اور امن کو ہر حالت میں قائم رکھتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے اس رویہ سے بعض نادان حکام یہ خیال سکتا ہے