خطبات محمود (جلد 22) — Page 49
خطبات محمود 49 $1941 اسے یہ یاد ہی نہیں رہے گا کہ یہ کس بیوی کا بچہ ہے۔چنانچہ اس نے جھٹ دوسری عورت کا لڑکا اٹھا لیا اور کہنے لگی کہ یہ میرا بیٹا ہے تیرے بیٹے کو بھیڑیا کھا گیا ہے۔وہ کہنے لگی یہ تمہارا نہیں میرا بیٹا ہے۔اس پر تکرار بڑھ گئی اور دونوں گھتم گتھا ہو گئیں۔قریب ہی یروشلم تھا جب ان کی لڑائی بہت بڑھ گئی تو انہوں نے یروشلم میں السلام کے آکر قضاء میں دعویٰ دائر کر دیا۔ایک نے کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے اور دوسری نے کہ یہ میرا بیٹا ہے اور دونوں اس پر قسمیں کھاتی تھیں۔گواہ کوئی تھا نہیں کہ پتہ لگے کہ یہ لڑکا واقع میں کس کا ہے۔آخر یہ معاملہ حضرت داؤد علیہ سامنے پیش ہوا۔انہوں نے چاہا کہ کوئی گواہی مل جائے مگر کوئی گواہی نہ ملی اور ان عورتوں کی یہ حالت تھی کہ دونوں اس بات پر قسمیں کھاتی تھیں کہ لڑکا ان کا ہے۔ایک کہتی میرا ہے اور دوسری کہتی میرا ہے۔حضرت داؤد علیہ السلام کو کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ وہ اس مقدمہ کا کس طرح فیصلہ کریں۔آخر یہ معاملہ حضرت سلیمان علیہ السلام تک بھی پہنچ گیا جو خود قاضی تھے۔وہ ان دنوں نوجوان تھے اور بعض دفعہ جوانی میں نئے نئے خیالات سوجھ جاتے ہیں۔انہوں نے حضرت داؤد علیہ السلام کو کہلا بھیجا کہ اگر آپ برا نہ منائیں تو یہ مقدمہ میرے سپرد کر دیں۔میں اس کا بڑی آسانی سے فیصلہ کر دوں گا۔چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام نے مقدمہ ان کے پاس بھیج دیا۔انہوں نے بھی پہلے کوئی گواہی معلوم کرنی چاہی مگر ج جب کوئی گواہی معلوم نہ ہوئی نہ ہوئی تو ان دونوں عورتوں سے کہا بات یہ ہے کہ پہلا لڑکا اگر بھیڑیا کھا گیا تو نقصان دراصل باپ کا ہوا ہے کیونکہ لڑکا اس کا تھا۔اب صرف ایک لڑکا اور یہ بھی اسی کا ہے۔بہتر ہے کہ اس کو بھی قتل کر کے دو ٹکڑے ہے دیئے جائیں اور آدھا آدھا تم دونوں میں بانٹ دیا جائے۔اس طرح تم دونوں برابر ہو جاؤ گی اور کسی کے پاس بھی کوئی بچہ نہیں رہے گا۔چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا کہ چھری لاؤ۔میں اس بچے کو کاٹ کر ابھی ان دونوں عورتوں میں آدھا آدھا تقسیم کر دیتا ہوں۔جب چھری لائی گئی اور آپ دکھاوے کے طور پر رہتا