خطبات محمود (جلد 22) — Page 368
* 1941 369 خطبات محمود جو لوگ میرے خطبات سنتے ہیں وہ اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور دوسرے لوگ بھی جو میرے خطبات کو پڑھتے ہیں یہ جانتے ہیں کہ میں نے کبھی مخالف کے خیالات کی جماعت میں اشاعت میں روک پیدا نہیں کی۔۔ابھی ڈیڑھ دو سال کی ہی بات ہے کہ جماعت کے بعض دوستوں نے مجھ سے کہا کہ بعض احمدی مصری صاحب کی کتابیں پڑھتے ہیں۔ان کو روکا جائے مگر میں نے جواب دیا کہ روکنے کی کوئی بات نہیں۔جو پڑھنا چاہے بے شک پڑھے بلکہ اگر انہیں نہ پڑھا جائے تو ہمارے عقائد کی فضیلت ان پر کس طرح ظاہر ہو۔یہ بات نے اسی مسجد میں اور اسی منبر پر کہی تھی۔میں نے تو ان لوگوں کو ملامت کی جو چاہتے تھے کہ مصری صاحب کی کتابیں پڑھنے سے جماعت کے دوستوں کو روک دیا جائے مگر ان سب باتوں کی موجودگی میں مولوی محمد علی صاحب کا یہ کہنا کہ میں ان کے خیالات کی اشاعت جماعت میں نہیں چاہتا بالکل خلاف واقعہ بات ہے۔میں نے اپنی خلافت کے زمانہ سے لے کر آج تک بھی بھی جماعت کو مخالفوں کے خیالات پڑھنے سے نہیں روکا۔ہاں فتنہ کی مجالس میں جانے سے ضرور روکا ہے اور اس سے قرآن کریم نے بھی روکا ہے اور کہا ہے کہ جہاں فتنہ کا احتمال ہو اور دین سے استہزاء ہو رہا ہو وہاں نہ جاؤ۔6 پس جس بات سے قرآن کریم نے روکا اس سے میں بھی روکتا ہوں اور جس سے قرآن کریم نے نہیں روکا اس سے میں نے کبھی نہیں روکا اور اگر مخالف کے خیالات معلوم نہ ہوں تو تبلیغ کیسے کی جا گزشتہ پچیس سال کے عرصہ میں “ الفضل ” اور “ فاروق ” میں سینکڑوں دوستوں نے غیر مبائعین کے متعلق مضامین لکھے ہیں۔میرا خیال ہے ایسے لوگوں کی تعداد تین چار سو ہو گی۔اگر وہ ان کے خیالات نہیں پڑھتے تو کیا مولوی محمد علی صاحب یا ان کے رفقاء کے خیالات کی تردید بغیر پڑھنے کے ہی کرتے ہیں اور اپنے پاس حوالے بنا کر ان کے متعلق مضامین لکھ دیتے ہیں؟ پس اس بات کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کہ ہم ان کے خیالات پڑھنے سے ہے سے