خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 367

خطبات محمود 368 * 1941 “سورہ کہف کی تفسیر جناب مولوی محمد علی صاحب نے بیان القرآن میں اور حضرت (خلیفة المسیح) نے تفسیر کبیر میں شائع فرمائی ہے۔اگر غیر مبائعین تیار ہوں تو دونوں تفسیروں کو مشتر کہ خرچ پر اکٹھا شائع کر دیا جائے تا پڑھنے والے اندازہ لگا سکیں کہ کسے تائید الہی حاصل ہے اور کون اس سے محروم ہے”۔4 اس سے بھی ان کے خیالات کی اشاعت ہوتی مگر انہوں نے اسے بھی نہ مانا۔گو یہ میری تجویز نہ تھی مگر ایک احمدی کی تھی جسے باوجود علم ہو جانے کے میں نے رد نہیں کیا۔اور اسے رد نہ کرنے کے معنے یہ ہیں کہ میں نے اسے برا نہیں سمجھا۔میرے نزدیک یہ پسندیدہ نہ سہی مگر میرے سامنے آئی اور میں نے اسے رد نہ کیا جس کے معنے یہ ہیں کہ میں نے اسے ایسا برا نہیں سمجھا مگر اسے بھی مولوی صاحب نے نہ مانا اور اس کا جواب یہ دیا کہ:۔امور اگر کسی کو مقابلہ کے لئے بلاتا ہے تو وہ خدا کے حکم سے ایسا کرتا ہے لیکن ایک غیر مامور کا وہی طریق اختیار کرنا دین کو بچوں کا کھیل بنانا ہے”۔5 حالانکہ اگر اس تجویز کو مان لیا جاتا اور دونوں تفسیروں کو اکٹھا شائع کیا جاتا تو اشاعت پر آدھا خرچ ہمارا بھی ہوتا اور اس طرح اپنے پاس سے روپیہ خرچ کر کے ہم ان کے خیالات کی اشاعت کرنے والے بنتے۔تو ہماری طرف سے دو تجاویز پیش کی گئیں جن میں ان کے خیالات کی اشاعت کا موقع تھا اور ہم اس کے لئے نصف خرچ بھی دینے کو تیار تھے۔پہلی تجویز کو مان لینے کی صورت میں نبوت کے متعلق ان کے خیالات پھیلتے اور دوسری کو ماننے کی صورت میں قرآن کریم کے جو علوم انہوں نے بیان کئے ہیں ان کی اشاعت ہوتی۔مگر مولوی صاحب نے دونوں کو رڈ کر دیا اور اپنی طرف سے ایک تجویز پیش کر کے اس پر اتنا زور دیا کہ لکھ دیا میں اسے نہیں مانوں گا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ ان کے خیالات کی اشاعت ہماری جماعت میں ہو۔حالانکہ میں نے کبھی مخالف کے خیالات کی اشاعت میں روک پیدا نہیں کی۔